مسیح اور مہدیؑ

by Other Authors

Page 478 of 708

مسیح اور مہدیؑ — Page 478

مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 478 رسول اللہ کے کامل غلام مہدی کا عالی مقام 168 اور راوی زائدۃ امام بخاری ، نسائی اور حاکم کے نزدیک ثقہ راوی نہیں ہے۔(تهذيب التهذيب جلد 2 صفحه 460 دار الكتب العلمية (بيروت) اس لئے اس کی طرف سے یہ زائد الفاظ ( کہ مہدی کے باپ کا نام میرے باپ کا نام ہوگا ) قابل قبول نہیں ہو سکتے۔یہاں ان الفاظ کے اضافہ کا تاریخی پس منظر بھی بیان کرنا ضروری ہے کہ زائدۃ الباصلی تابعین کے وسطی طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ان کا زمانہ دوسری صدی ہجری ہے، جو عباسی حکومت کا دور تھا۔اسی زمانہ میں محمد بن عبد اللہ معروف بہ نفس زکیہ (حضرت امام حسین کے پوتے ) نے مہدی کا لقب اختیار کر کے عباسی خلیفہ منصور کے بالمقابل خلافت کا دعویٰ کیا تو محمد مہدی کے حامیوں نے یہ حدیث ان کی تائید میں پیش کر کے مشہور کر دیا کہ محمد بن عبد اللہ ہی وہ مہدی موعود ہیں جن کی پیشگوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی تھی اور اسی زمانہ میں باپ کے نام میں مشابہت والی حدیث کے یہ الفاظ مشہور عام ہوئے اور ایک بڑی جماعت نے محمد کو مہدی تسلیم کر کے بیعت بھی کر لی۔مگر 145ھ میں عباسی فوجوں کا مقابلہ کرتے ہوئے محمد مہدی مارے گئے۔اور یہ حدیث ان کی سچائی پر چسپاں نہ ہو سکی۔(مشخص از تاریخ اسلام حصہ سوم صفحہ 39-40 مکتبہ اسلامیہ لاہور ) 169 دراصل اس حدیث میں بڑی قطعیت کے ساتھ آنحضرت کے ہمرنگ ایک روحانی فرزند کے ظہور کی خبر دی گئی ہے۔وحی الہی کے بغیر ایسی یقینی خبر دینا ناممکن ہے۔اس حدیث میں اس رجل موعود کا ایک کام قیام عدل بیان کیا گیا ہے جو اس کے مہدی ہونے پر دلیل ہے۔اس آنیوالے کے روحانی اہلِ بیت ہونے کی طرف اشارہ رَجُلًا مِنی “ کے الفاظ میں موجود ہے کہ وہ کامل طور پر آنحضرت کا مطیع وفرمانبردار ہو گا جیسے رسول اللہ نے مسلمانوں کو دھوکہ دینے والے نافرمان لوگوں کا تعلق لیس منا کہہ کر اپنے سے کاٹ دیا کہ ایسے لوگ ہم میں سے نہیں ہیں۔وه 170 ( صحیح مسلم اردو جلد اول صفحہ 199 مترجم علامہ وحید الزمان نعمانی کتب خانہ لاہور ) اسی طرح اس شخص سے کمال تعلق کا اظہار یہاں مجھ میں سے ایک شخص کے الفاظ میں اس کی انتہائی فرمانبرداری کے باعث کیا گیا ہے۔حدیث میں اس کا نام میرا نام ہو گا کے الفاظ میں اس آنے والے کے نام کی محض ظاہری مماثلت مقصود نہیں۔نہ ہی یہ کسی روحانی مرتبہ کے لئے کافی ہو سکتی ہے۔بلکہ یہاں روحانی موافقت کا مضمون غالب