مسیح اور مہدیؑ — Page 24
مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 24 معراج نبوی میں حضرت عیسی دیگر وفات یافتہ انبیاء کے ساتھ کتاب المناقب / باب معراج کا بیان عکس حوالہ نمبر: 3 An بلانے کے لئے آپ کو بھیجا گیا تھا؟ جبر نکل نے کہا ہاں کہا خوش آمدید خوب آئے پھر جب میں اندر پہنچا تو دیکھا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام ہیں جبرئیل نے کہا یہ موسیٰ علیہ السلام ہیں آپ انہیں سلام کیجئے تو میں نے انہیں سلام کیا اور انہوں نے سلام کا جواب دیا پھر فرمایا خوش آمدید صالح بھائی اور صالح نہیں، پھر جب میں آگے بڑھا تو وہ رونے لگے ان سے پوچھا گیا آپ کیوں اور ہے ہیں؟ کہنے لگے میں اس لئے روتا ہوں کہ بیٹڑ کا ( دنیا میں ) میرے بعد پیغمبر بنا کر بھیجے گئے اور ان کی امت کے لوگ میری امت سے زیادہ بہشت میں جائیں گے۔پھر جبرئیل مجھ کو لے کر ساتویں آسمان پر مجھے اور جبرئیل نے دروازہ کھولنے کو کہا پو چھا گیا کون ہیں؟ جبرئیل نے کہا میں جبرئیل ہوں پو چھا گیا آپ کے ساتھ اور کون ہیں؟ جبرئیل نے کہا محمد ( ر ) میں پو چھا گیا وہ بلائے گئے ہیں جبرئیل نے کہا ہاں تو کیا انہیں خوش آمدید خوب آئے پھر جب میں اندر پہنچا تو دیکھا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ہیں، جبرئیل نے کہا یہ آپ کے والد ہیں آپ انہیں سلام مجھے میں نے انہیں سلام کیا اور انہوں نے سلام کا جواب دیا اور فرمایا خوش آمدید نیک فرزند اور نیک نہی۔پھر مجھ کو سدرۃ انتہی تک لے جایا گیا تو دیکھا کہ اس کے پھل فجر کے مشکوں کے برابر ہیں اور دیکھا کہ اسکے پتے ہاتھی کے کان کے برابر جبرئیل نے کہا یہ سدرۃ بنتی ہے اور دیکھا کہ چار نہریں ہیں دو باطن اور دو ظاہر، میں نے جبرئیل سے پو چھا یہ کیا ہیں؟ جبرئیل نے کہا باطنی دو نہریں جنت میں جاری ہیں اور دو ظاہری نہریں نیکل وفرات ہیں پھر میرے سامنے بیت المعمور کیا گیا پھر میرے سامنے ایک برتن شراب کا اور ایک برتن دودھ کا اور ایک برتن شہد کالا یا گیا میں نے دودھ کا پیالہ لے لیا ( اس کو پی گیا) بہر نکل نے کہا یہ فطرت ہے ( دین اسلام ہے) جس پر آپ اور آپ کی امت قائم ہیں۔پھر مجھ پر روزانہ پچاس وقت کی نماز میں فرض کی گئیں پھر میں لوٹ آیا تو موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گذرا تو مونی علیہ السلام نے پوچھا آپ کو کیا حکم ہوا آپ پہلے نے فرمایا مجھے روزانہ پچاس نمازوں کا حکم دیا گیا ہے موسیٰ علیہ السلام نے کہا آپ کی امت روزانہ پچاس نمازیں نہیں پڑھ سکتی اور میں بخدا آپ سے پہلے لوگوں کو آزما چکا ہوں اور میں بنی اسرائیل پر بہت سختی کر چکا ہوں اس لئے آپ اپنے پروردگار کے پاس واپس جائے اور ان سے اپنی امت کے لئے تخفیف کی درخواست کیجئے چنانچہ میں واپس حاضر ہوا تو اللہ نے مجھ سے دس نمازیں معاف فرما دیں پھر میں لوٹ کر موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا تو موسیٰ علیہ السلام نے اس طرح کہا پھر میں واپس حاضر ہوا تو دس اور معاف فرما دیں پھر لوٹ کر موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا تو موسیٰ علیہ السلام نے اس طرح کہا تو میں پھر اللہ تعالٰی کی بارگاہ میں حاضر ہو اتو اللہ تعالٰی نے مجھ سے دس اور معاف فرما دی پھر میں موسی علیہ السلام کے پاس آیا تو موسی علیہ السلام نے اسی طرح کہا تو میں پھر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوا تو مجھے روزانہ دس نمازوں کا حکم دیا گیا۔نصر النهاري ۸۲۲ پھر میں لوٹ کر موسی علیہ السلام کے پاس آیا تو موسیٰ علیہ السلام نے وہی کہا پھر میں بارگاہ الہی میں لوٹ کر گیا تو مجھے ابر کتاب المناقب (۳۱۵۸) باب : مکہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس انصار کے وفود کی آمد اور بیعت عقبہ ، حدیث : (۳۶۳۰) روزانہ پانچ نمازوں کا حکم دیا گیا پھر میں لوٹ کر موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا تو موسیٰ علیہ السلام نے پوچھا آپ کو کیا حکم دیا گیا میں نے کہا روزانہ پانچ نمازوں کا حکم دیا گیا موسیٰ علیہ السلام نے کہا آپ کی است روزانہ پانچ نمازوں کی استطاعت نہیں رکھتی میں نے آپ سے پہلے لوگوں کا تجربہ کیا ہے اور بنی اسرائیل پر میں بہت زور ڈال چکا ہوں اس لئے آپ اپنے پروردگار کے پاس پھر جائیے اور اپنی امت کے لئے تخفیف کی درخواست کیجئے ، آنحضور ﷺ نے فرمایا کہ میں اپنے پروردگار سے بہت درخواست کر چکا ہوں اور اب مجھے شرم آتی ہے اب میں اس پر راضی ہو جاتا ہوں اور اسے تسلیم کرتا ہوں ( اپنی امت سے پانچ نمازیں پڑھواؤں گا ) حضور اقدس ﷺ نے فرمایا جب میں آگے بڑھا تو نداد دینے والے نے مدادی میں نے اپنا فریضہ نافذ کر دیا اور اپنے بندوں پر تخفیف بھی کر دی۔