مسیح اور مہدیؑ — Page 406
مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں مفردات القرآن - جلد 1 ہے چنانچہ آنحضرت لئے ہم نے فرمایا: (۶) 406 عکس حوالہ نمبر: 140 د قبال و یا جوج ماجوج پر مسیح موعود اور جماعت کا علمی وروحانی نفلیہ 37 ( شعلہ ناریا اس کی شدید تپش اور حرارت) واجْتَهَا وَقَدْ (1) الْبِرُّ مَا اطْمَانَتْ إِلَيْهِ النَّفْسُوَ الإِثْمُ مَا حَاكَ أَجت۔میں نے آگ بھڑکائی چنانچہ وہ بھڑک اٹھی فِي صَدْرِكَ • کہ نیکی وہ ہے جس پر طبیعت مطمئن ہو ( وغیرہ محاورات) سے مشتق ہے۔اور گناہ وہ ہے جس کے متعلق دل میں تردد ہو۔یادر ہے کہ اتج اننهَارُ۔دن گرم ہو گیا۔اسی (آج) سے اس حدیث میں آنحضرت ﷺ نے البر والاثم کی باجُوجَ وَمَا جُوج (۱۸-۹۳) (۲۱-۹۲) ہے تفسیر نہیں بیان کی ہے بلکہ ان کے احکام بیان فرمائے ان کے کثرت اضطراب کی وجہ سے مشتعل آگ یا موجزن اور متلاطم پانی کے ساتھ تشبیہ دے کر یاجوج ہیں۔اور آیت کریمہ معتل آنیم (۱۲۶۸ ) میں اشیم ماجوج کہا گیا ہے۔بمعنی آتم آتا ہے اور آیت: يُسَارِعُونَ فِي الْإِثْمِ اَجَ الظَّلِيمُ أَجِيجا - شتر مرغ نهایت سرعت والعدوان (۶۲۵) ( که دو گناہ اور ظلم میں جلدی کر رفتار سے چلا۔یہ محاورہ اشتعال نار کے ساتھ تشبیہ دے کر رہے ہیں) کی تفسیر میں بعض نے کہا ہے کہ آتم سے بولا جاتا ہے۔آیت: ﴿وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ اج ر هُمُ الْكَافِرُونَ) (۴۴۵) کے مضمون کی طرف اشارہ الآخرُ وَالأجْرَةُ کے معنی جزائے عمل کے ہیں ہے ( یعنی عدم الحكم بما أنزل الله کفر ) اور خواہ وہ بدلہ دنیوی ہو یا اخروی۔چنانچہ فرمایا: ﴿وران عنوان سے آیت کریمہ: وَمَن لَّمْ يَحْكُمْ بِمَا أَجْرِى إِلَّا عَلَى اللهِ ) (۱_۲۹) میرا اجر تو خدا کے انزل الله فأولئكَ هُمُ الظَّالِمُونَ ) (۳۵۵) نے ہے۔﴿وَآتَيْنَاهُ أَجْرَهُ فِي الدُّنْيَا وَإِنَّهُ فِي کے مفہوم کی طرف اشارہ (یعنی عدم الحكم بما الآخِرَةِ لَمِنَ الصَّلِحِينَ ﴾ (۲۹ - ۲۷) اور ان کو دنیا انزل الله ظلم) اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ لفظ اثم میں بھی ان کا صلہ عنایت کیا اور وہ آخرت میں بھی نیک لوگوں میں سے ہوں گے۔﴿وَلَا جُرُ الآخِرَةِ خَيْرٌ عدوان سے عام ہے۔اج ج لِلَّذِينَ آمَنُوا) (۱۲-۵۷) اور جو لوگ ایمان لائے الأجاج کے معنی سخت کھاری اور گرم پانی کے ہیں ان کے لیے آخرت کا اجر بہت بہتر ہے۔قرآن پاک میں ہے: ﴿هُذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَهَذَا الأجرة ( مزووری) یہ لفظ خاص کر دنیوی بدلہ پر ملح اُجاج ) (۲۵-۵۳) ایک کا پانی نہایت شیریں اور بولا جاتا ہے۔آخر کی جمع أجور ہے اور آیت کریمہ: دوسرے کا سخت گرم ہے۔یہ ( أجاج) اجيج النَّارِ وَاتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ ) (۴-۲۵) اور ان کے مہر بھی كلمة من حديث وابصة الأسدي انظر (حم)، طب، في الدلائل عنه حب ذكره في كنزل العمال :: ٢١٥٨٠٢١٨٤ وبمعناه رواية واصلة ۲۱۸۲۰۲۱۷۷ - ذكره الغزاني في الأحياء في مواضع ٤٣/٣ بتخريج العراقي۔