مسیح اور مہدیؑ — Page 22
مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں ه / کتاب المناقب / باب معراج کا بیان 22 22 عکس حوالہ نمبر : 3 معراج نبوی میں حضرت عیسی دیگر وفات یافتہ انبیاء کے ساتھ AI اللبن فقالَ فِى الفِطْرَةُ التى أنتَ عَلَيْهَا وَأمَّتُكَ ثُمَّ فُرِضَتْ عَلَى الصَّلَواتُ خَمْسِينَ هی صلوة كُلَّ يَومٍ فَرَجَعْتُ فَمَرَرْتُ عَلَى مُوسَى فَقَالَ بِمَا أُمِرْتَ قَالَ أُمِرْتُ بِخَمْسِينَ صَلوةِ كُلَّ يَومٍ قَالَ إِنَّ أُمَّتَكَ لا تَسْتَطِيعُ خَمْسِينَ صَلَوَةً كُلَّ يومٍ وَإِنِّي وَاللَّهِ قَد حَرَّبْتُ النَّاسَ قَبْلَكَ وَعَالَجْتُ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَشَدَّ المُعَالَجَةِ فَارْجِعُ إِلَى رَبِّكَ فَسَلْهُ التَّخْفِيفَ لامتِكَ فَرَجَعْتُ فَوَضَعَ عَنِّى عَشْرًا فَرَجَعْتُ إِلى مُوسَى فَقَالَ مِثْلَهُ فَرَجَعْتُ فَوَضَعَ عَشْرًا فَرَجَعْتُ إلى مُوسى فقالَ مِثْلَه فَرَجَعْتُ أَوَضَعَ عَلَى عَشْرًا فَرَجَعْتُ إِلَى موسَى فَقَالَ مِثْلَه فَرَجَعْتُ فَأُمِرْتُ بِعَشْرِ صَلَوَاتٍ كُلُّ يومٍ فَرَجَعْتُ فَقَالَ مِثْلَهُ رَجَعتُ فأُمِرْتُ بِخَمْسٍ صَلَواتِ كُلّ يومٍ فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى فَقَالَ بِمَا أُمِرْتَ قَلتُ أموتُ بخمس صلوات كل يوم قال إِن امْتَكَ لا تَسْتَطِيعُ خَمْسَ صَلَواتِ كُلُّ يوم قَدْ جَرَّبْتُ الناسَ قَبْلَكَ وعالجت بَنِي إِسْرَائِيلَ أَشَدَّ المُعَالَجَةِ فَارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فسَلُهُ التخفيف لأمتِكَ قال سَأَلْتُ رَبِّي حتى اسْتَحْيَيْتُ وَلَكِنِّي أَرْضَى وَأَسَلِّمُ قَالَ فَلَمَّا جَاوَزْتُ نَادَى مُنَادٍ أَمْضَيْتُ فَرِيضَتِي وَخَفَّفْتُ عَنْ عِبَادِي ) ترجمہ حضرت مالک بن صعصعہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی بی نے صحابہ سے ﷺ نے صحابہ سے شب معراج کا واقعہ یوں بیان کیا کہ میں عظیم میں لیٹا ہوا تھا اور بھی شمارہ نے عظیم کے بجائے فجر کہا ( حجر بھی عظیم ہی کو کہتے ہیں تمادہ راوی کو شک ہوا کہ ایک آنے والے (جبرئیل علیہ السلام) میرے پاس آئے اور انہوں نے چاک کیا۔قال وسمعته يقول : عمارہ نے بیان کیا کہ میں نے انس سے ستادہ فرماتے تھے یہاں سے یہاں تک کے درمیان (چاک کیا تو میں نے جارد ( ابن ابی سبرہ تابعی) سے جو میرے پہلو میں ( قریب ہی بیٹھے تھے پوچھا کہ حضرت انس کی اس سے کیا مرا تھی ؟ تو انہوں نے کہا مینے کے اوپری حصے سے (یعنی حلق سے ) ناف تک ( قتادہ نے بیان کیا کہ ) میں نے انس سے سنادہ فرمارہے تھے سینے کے سرے سے ناف تک چاک کیا پھر میرا دل نکالا پھر میرے پاس ایک سونے کا طشت لایا گیا جو ایمان سے لبریز تھا میرا دل دھویا گیا پھر ایمان سے بھر گیا اس کے بعد اپنی جگہ رکھ دیا گیا پھر (سواری کے لئے ) ایک جانور لایا گیا جو نچر سے نیچا اور گدھے سے اونچا تھا سفید رنگ، چاروں نے حضرت انس سے پو چھا اے ابو حمزہ یہ جانور براق تھا ؟ حضرت انس نے کہا ہاں ! و اپنا قدم ملا نے نر پر رکھا تا مجھے سپر وار کیا گیا اور جبر کل علی اسلام مجھ کولے کر چلے یہاں تک کہ آسان دنیا پہلے آسمان پر پہنچے اور جبرئیل علیہ السلام نے دروازہ کھولنے کے لئے کہا تو اندر سے پوچھا گیا کون ہیں؟ جبرئیل علیہ السلام نے کہا میں جبرئیل ہوں پو چھا گیا اور آپ کے ساتھ کون ہیں؟ جبرئیل نے بتا یا محمد (ہ) میں پوچھا گیا کیا یہ بالائے نصر الباري