مسیح اور مہدیؑ — Page 389
مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 389 دنبال و یا جوج ماجوج پر مسیح موعود اور جماعت کا علمی وروحانی غلبہ بالآخر انیسویں صدی عیسوی بمطابق تیرہویں صدی ہجری میں ساری دنیا میں عموماً اور ہندوستان میں خصوصاً پوری قوت سے یکدفعہ اسلام پر حملہ آور ہو گئے۔اور انیسویں صدی اس دجالی گروہ کے عروج کا زمانہ تھا۔یہی وہ دجال ہے جس کے مقابلہ کے لئے رسول کریم ﷺ نے مسیح موعود کی خبر دی تھی۔حضرت بانی جماعت احمد یہ ہی وہ مسیح موعود ہیں۔جنہوں نے فرمایا: جب تیرہویں صدی کچھ نصف سے زیادہ گزرگئی تو یکدفعہ اس دجالی گروہ کا خروج ہوا اور پھر ترقی ہوتی گئی۔“ (ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 364 ایڈیشن 2008) زیر تشریح حدیث کے آخر میں ذکر تھا کہ اللہ تعالیٰ مسیح کے زمانہ میں ایسے طاقتور بندے ( یا جوج ماجوج ) ظاہر کرے گا کہ کسی کو ان کے ساتھ جنگ کی طاقت نہ ہوگی۔اور مسیح موعود کو حکم ہوگا کہ تو ان سے جنگ نہ کر بلکہ میرے بندوں کو طور کی پناہ میں لے آ۔یا جوج ماجوج سے مراد انہی مغربی قوموں کی سیاسی طاقت ہے جبکہ دجال سے مراد ان کی مذہبی طاقت تھی۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ فرماتے ہیں: سو میں دیکھتا ہوں کہ یہی حکم مجھے ہوا ہے۔اب واضح ہو کہ ان بندوں سے مراد یورپ کی طاقتیں ہیں جو تمام دنیا میں پھیلتی جاتی ہیں اور طور سے مراد تجلیات حقہ کا مقام ہے جس میں انوار و برکات اور عظیم الشان معجزات ہیں۔ہیبت ناک آیات صادر ہوتی ہیں۔۔۔اور خلاصہ اس پیشگوئی کا یہ ہے مسیح موعود جب آئیگا تو وہ ان زبر دست طاقتور سے جنگ نہیں کرے گا بلکہ دین اسلام کو زمین پر پھیلانے کے لئے وہی چمکتے ہوئے نور اس پر ظاہر ہوں گے جو موسیٰ نبی پر کوہ طور میں ظاہر ہوئے تھے۔پس طور سے مراد چمکدار تجلیات الہیہ ہیں جو معجزات اور کرامات اور خرق عادت کے طور پر ظہور میں آرہے ہیں اور آئیں گے اور دنیا دیکھے گی کہ وہ چمک کس طرح سطح دنیا پر محیط ہو جائے گی۔“ چشمه معرفت روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 397-398 ایڈیشن 2008)