مسیح اور مہدیؑ — Page 354
مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 354 دجال کی قوت و شوکت اور خر و قبال کی حقیقت دجال کی غیر معمولی قوت و طاقت کے اظہار کے طور پر اس کی حیرت انگیز ایجادات کی تیز رفتاری کا ذکر بھی احادیث میں موجود ہے۔جیسا کہ لکھا ہے کہ اس کا ایک گدھا ہوگا جس کے کانوں کے درمیان چوڑائی چالیس گز ہوگی، ہر ہفتہ وہ ہر جگہ پہنچ جائے گا۔اس کے ساتھ دو پہاڑ چلیں گے ایک میں درخت، پھل اور پانی ہوگا اور ایک میں دھواں اور آگ ہوگی۔کہے گا یہ جنت ہے یہ جہنم۔سا درخت (کنز العمال جلد 7 حصہ چہار دہم صفحہ 463 دار الاشاعت کراچی ) 130 پھر بحری جہازوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ دجال کا گدھا سمندر میں گھس جائے گا اور بادلوں کو چھوئے گا ( اور اپنی تیزی میں ) سورج کے غروب پر بھی سبقت لے جائے گا۔المصنف ابن ابی شیبه جلد 21 صفحه 225 دار قرطبة بيروت 131 بعض سفر دجال کی سواری سات دن میں طے کرے گی اور اس کے ساتھ دو پہاڑ ہوں گے ایک میں پھل اور پانی وغیرہ کھانے پینے کا سامان اور دوسرے میں دھواں اور آگ ہوگی۔(کنز العمال۔ملاحظہ ہو حوالہ 131) اس دور کے بعض علماء نے ریل گاڑی سے دجال کا وہ گدھا مرا دلیا ہے جس کی خبر نبی کریم صلی ہدیہ مہدویہ صفحہ 89-90 مطبع نظام کا نپور ) 132 اللہ علیہ وسلم نے دی تھی۔دقبال کی سواری کی یہی علامات شیعہ کتب میں بھی موجود ہیں نیز لکھا ہے کہ آخری زمانہ میں ایسی سواریوں پر سواری کی جائیگی جو ذوات الفروج یعنی سوراخ والی یعنی روزن اور کھڑکیوں والی اور ذوات السروج یعنی زمین والی سواریاں اور سیٹوں (Seats) والی گاڑیاں ہوں گی اور بعض نے زین کسے ہوئے گھوڑے اور کاریں مراد لی ہیں۔(بحارالانوار مترجم جلد 12 صفحہ 82-83 محفوظ بک ایجنسی کراچی ) حضرت بانی جماعت احمد یہ فرماتے ہیں: 133 ”ہمارے نزدیک ممکن ہے کہ دجال سے مراد با اقبال قو میں ہوں اور گدھا اُن کا یہی ریل ہو جو مشرق اور مغرب کے ملکوں میں ہزار ہا کوسوں تک چلتے دیکھتے ہو۔“ (ازالہ اوہام حصہ اول روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 174 ایڈیشن 2008)