مسیح اور مہدیؑ

by Other Authors

Page 321 of 708

مسیح اور مہدیؑ — Page 321

مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 321 قیامت سے پہلے دس نشانات 381 عکس حوالہ نمبر 108 قرآن پاک کی تفسیر میں لوگوں سے مراد مکہ والے ہوں گے۔گویا یہ ایک پیشین گوئی تھی كما يدل عليه قوله فارتقب جو پوری ہوئی۔یہ سورت کی ہے۔اس میں ۵۹ آیات اور قیمن رکوع ہیں۔1 - باب ﴿فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي باب آیت یوم تاتی السماء بدخان مبین کی تفسیر السَّمَاءُ بِدُخَانِ مُبين قَالَ قَتَادَةُ یعنی " پس آپ انتظار کریں اس دن کا جب آسمان کی طرف ایک نظر آنے والا دھواں پیدا ہو"۔قتادہ نے فرمایا کہ فارتقب ای فانتظر یعنی (فَارْقِيب) فَانتَظِرْ انتظار کیجئے۔٤٨٢٠ - حَدَّثَنَا عَبْدَانُ عَنْ أَبِي حَمْزَةَ (۴۸۲۰) ہم سے عبدان نے بیان کیا، ان سے ابو حمزہ نے ان سے عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ اعمش نے ان سے مسلم نے ان سے مسروق نے اور ان سے عبد الله قَالَ: مَضَى خَمْسُ الدُّعَانُ عبد اللہ بن مسعود بیل للہ نے کہ (قیامت کی) پانچ علامتیں گزر چکی ہیں الدخان" (وهوال) الروم (غلبه (روم) القمر (چاند کا ٹکڑے ہونا) والروم، والْقَمَرُ، وَالْبَطْشَة، والتزام۔راجع: ۱۰۰۷] البطشه (پکڑ) اور اللزام (ہلاکت اور قید) ۲- باب قوله يَغْشَى النَّاسَ هَذَا باب آیت ( يغشى الناس هذا عذاب الیم ) کی تفسیر عَذَابٌ أَلِيمٌ یعنی ان سب لوگوں پر چھا جائے گا یہ ایک عذاب دردناک ہو گا۔" ٤٨٢١ - حدثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو (۴۸۲۱) ہم سے بیٹی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو معاویہ نے بیان کیا مُعَاوِيَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ ان سے اعمش نے ان سے مسلم نے ان سے مسروق نے بیان کیا مَسْرُوق قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ إِنَّمَا كَانَ هَذَا اور ان سے حضرت عبداللہ بن مسعود منیجر نے بیان کیا کہ یہ (قط) لأَن قُرَيْشًا لَمَّا اسْتَعْصَوْا عَلَى النَّبِيِّ اس لئے پڑا تھا کہ قریش جب رسول اللہ تعلیم کی دعوت قبول کرنے دَعَا عَلَيْهِمْ بسنين كيني يُوسُفَ، کی بجائے شرک پر جمے رہے تو آپ نے ان کے لئے ایسے قحط کی بد فَأَصَابَهُمْ فَحْطُ وَحَهَدٌ حَتَّى أَكَلُوا الْعِظَامَ، دعا کی جیسا یوسف کی نظام کے زمانہ میں پڑا تھا۔چنانچہ قحط کی نوبت یہاں فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَنْظُرُ إِلَى السَّمَاءِ فَيَرَى مَا تک پہنچی کہ لوگ ہڈیاں تک کھانے لگے۔لوگ آسمان کی طرف نظر بَيْنَهُ وَبَيْنَها كَهَيْنَةِ الدُّخان مِنَ الْجَهْدِ۔اٹھاتے لیکن بھوک اور فاقہ کی شدت کی وجہ سے دھویں کے سوا اور فأنزل الله تَعَالَى ﴿فَارتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي کچھ نظر نہ آتا اسی کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی " تو آپ السَّمَاءُ بدخان مُمِين يَغْشَى النَّاسَ هَذَا انتظار کریں اس روز کا جب آسمان کی طرف نظر آنے والا دھواں پیدا عَذَابٌ أَلِيمٌ قَالَ: فَأْتِيَ رَسُولُ الله ہو جو لوگوں پر چھا جائے۔یہ ایک درد ناک عذاب ہو گا"۔بیان کیا کہ فَقِيلَ: يَا رَسُولَ ا الله الله پھر ایک صاحب آنحضرت مد ندیم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض لِمُضَرَ فَإِنَّهَا قَدْ هَلَكَتْ قَالَ الْمُضَرَ؟ کی یا رسول اللہ ! قبیلہ مضر کے لئے بارش کی دعا کیجئے کہ وہ برباد ہو چکے إِنَّكَ لَجَرِي))، فَاسْتَسْقَى فَسَقُوا ہیں۔آنحضرت نے فرمایا، مضر کے حق میں دعا کے لئے کہتے ہو تم اسْتَسْقِ