مسیح اور مہدیؑ — Page 261
صحیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 261 مسلمانوں کی فرقہ بندی اور ناجی فرقہ یمان القرآن رمضان اشترال حدود ۲۱۳ عکس حوالہ نمبر: 87 140 رسائل و مسائل طرح کی ، ماموریت کو اپنے لیے دلیل ٹھیراتے ہیں کہ اگر بی صلی الہ علیہ وسلم مدینہ کے فرشتگاروں اور غلاموں کو برکت بھتے تھے تو آخر ہیں ہی نہیں اپنے مریدوں اور عقیدت کیشوں کے لیے کیوں نہ حاصل ہو ؟ ہمارے نزدیک تو اس طرح کے لوگ سخت نقہ اور کر رنس میں بتلا ہیں۔اور کیا تھا اور خداترس روئی کے لیے ہم یہ بات جائز نہیں کجھتے کہ وہ اپنے ایمان کو اس طرح کی آزمائش میں وہ ہے حضرات صحابہ رضی اللہ قسم کے حالات کا جہاں تک نہیں علم ہے، باوجود تمام خصائص تقدس کے حامل ہونے کے درشن دیتے اور برکت بانٹے سے نت افراز کرتے تھے، ملا کر ہی الیاس علیہ وسلم کے جس طرز عمل سے آج ہمارے مشائخ سند پکڑتے ہیں اس کو ان حضرات نے برائی العین مشاہدہ کیا تھا، اور قرآن ان کی نیکی اور تقوی پر گواہ تھا۔"اجماع اور رسواد اعظم کی غلط تعبیریں سوال: ایک صدا سب یہ حدیث بیان کرکے کہ لا تجتمع متى على الضلالة" فرماتے ہیں کہ اجماع است غلط بات پر نہیں ہو سکتا۔پس جب علمائے ہند کی اکثریت جمیعتہ العلماء میں جذب ہو کر فیصلہ کر چکی ہے کہ اس وقت کانگریس کے ساتھ ہی اشتراک گمل میں اسلام کے مطابق ہے تو بھی غلط میں ہو سکتا۔یہ صاحب اجماع امت سے مراد علی نے اس کا ہم خیائی ہوتا ہے ہیں۔براہ کرم اس حدیث شریف کے معصوم اور اس کی اہمیت پر روشنی ڈا لیے۔جواب : ان الله و بی امتی علی الصلاا ا ا ا ا ا ا اور اس کی دوسری مدیری را با موارد الما جماعت سے متعلق دار رہیں مسلم لیگ اور کانگریس کے حامیوں کے درمیان ایک عرصہ سے نہایت بے دردانہ استعمال میں سہی ہیں۔اور ان میںسے کسی خاکے بندر کو توفیق نہیں ہوتی کہ ان احادیث کے موقع وعمل اور ان کے صحیح مفہوم پر غور کر کے سلم لیگ کے مامی کہتے ہیں جب نبی کریم نے فرما کہ اسد تعالی آپ کی امت کو ضلالت پر اکٹھا نہیں کرے گا اور مسلمانوں کی اکثریت مسلم لیگ کے لیڈر اور سلم لیگ کے نظر متفق ہو گئی ہے تو زنا ہی راستہ ہدایت کا راستہ ہے اور جو سلمان اس سے الگ ہیں وہ سفارت جاعت کے حکم میں رائل اور من شان شان فی الناس کی وعید کے تھی ہیں۔اور کانگریسی حضرات کا استدلال رہی ہے جس کا اپنے حال دیا ہے۔حالانکہ اسلام ہی نہ اکثریت کا کسی بات پرمتفق ہو جانا اس کے حق ہونے کی دلیل ہے، از اکثریت کا نام مواد الم ہے اسیر ہیں میر جماعت کے حکم میں حاصل ہے، اور نہ کسی مقام کے ٹریوں کی کسی جماعت کا کسی رائے کو اختیار کرلینا اجماع ہے۔ان ساری تیاری سے قرض کرنے کا یہ موقع نہیں ہے، البتہ مذکورہ بالا حدیث کا مطلب ہم بیان کیے دیتے ہیں۔ذکورہ بالا حدیث تر فری میں ان الفاظ کے ساتھ وارد ہے۔ان الله لا يجمع التي او قال امت محمله على منك الله وبلد الله على الجماعة ومن شدن شان في المنامة (اسد تعالی میری امت کو یا یوں فرمایا کہ محو کی امت کو ضلالت پر مجمع نہیں کرے گا اور اس کا اتے جاعت پر ہے اور ہر جماعت سے الگ ہوارہ جنم می بڑا اس کا مطلب ہے کہ اس امت کے کوئی دور ایسا نہیں آئے گا کہ یہ عبوری است گزاری میں پڑھائے ، بلکہ اس میں ایک گروہ، خواہ وہ کتنا ہی چھوٹا ہو، ہمیشہ حق ہے قائم رہے گا اور دیہی جماعت ہے اور انور کاہاتھ اس جماعت پر ہے اور ہم اس جاعت سے الگ ہوا وہ جہنم میں گرا۔اس مطلب کی آئینہ اس حدیث نبوی سے ہوتی ہے جو عہد اور ابن عمر سے ان الفاظ مروی ہے :۔