مسیح اور مہدیؑ — Page 8
مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 8 عکس حوالہ نمبر : 1 واقعہ معراج اور رسول اللہ ﷺ کا بلند مقام كتاب الرد على الجهمية وغيرهم / باب: ارشادالي وكلم الله مومنی تكليمًا حديث: (۷۰۲۸) بنائیں (یا ترجمہ اس طرح کریں اگر ہم لوگ اپنے رب کے حضور کسی سے سفارش کروا ئیں تو خوب ہو ) چنانچہ سب لوگ آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور کہیں گے آپ تمام انسانوں کے باپ ( جد امجد ) میں اللہ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے بنایا ہے اور فرشتوں سے آپ کو سجدہ کروایا اور ہر چیز کے نام آپ کو سکھائے سو آپ ہمارے رب کے حضور ہمارے لئے سفارش کیجئے کہ ہم کو اس تکلیف سے ) راحت دے تو حضرت آدم علیہ السلام ان لوگوں سے کہیں گے میں اس مقام کے لائق نہیں ہوں اور اپنی اس خطا کو یاد کریں گے جو ان سے سرزد ہو گئی تھی۔مطابقة للترجمة هذا الحديث ذكره هنا مختصرا ولم يذكر فيه ما ترجم له على عادته في الاشارة الخ۔یہ حدیث یہاں مختصر ہے اور امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی عادت کے موافق اس کے دوسرے طریق کی طرف اشارہ کیا جو کتاب التفسیر بخاری ص: ۶۴۲ میں گزر چکا ہے اس میں یہ ہے ابترا موسیٰ عبد ا کلمه الله اس سے مطابقت ظاہر ہے نیز بخاری کتاب الرقاق ص: ۹۷۱ کی حدیث گذر چکی ہے جس میں ہے ابتدا موسیٰ الذی کلمه الله الخ ان دونوں روایت سے مطابقت ظاہر ہے۔تعد موضع والحديث هنا ص: ۱۱۱۹ تاص: ۱۱۲۰، دمر الحدیث فی التفسیر، ص: ۶۴۲ ، وفی الرقاق ، ص: ۹۷۱ وص: ۱۱۰۱ وص: ۱۱۰۸، وس: ۱۱۱۸ ٠٢٨ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللهِ حَدَّثَنِى سُلَيْمَانُ عَنْ شَرِيكِ بْن عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكِ يَقُولُ لَيْلَةَ أُسرِيَ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ مَسْجِدِ الكعبه أنه جَاءَهُ ثلاثة نفر قبل أن يُو۔فَقَالَ أَوَّلُهُم أَيُّهم تلكَ اللَّيْلَةَ فَلَمْ وهو نائم في المسـ دادو فِيمَا يَرَى قَلْبُهُ وَتَنَامُ عَيْنُهُ وَلَا وَكَذلِكَ الأنْبِيَاءُ تَنَامُ أَعْيُنَهُم وَلا تَنَامُ قُلُوبُهُمْ فَلَمْ يُكَلِّمُوهُ حَتَّى احْتَمَلُوهُ فَوَضَعُوهُ عند بئر مِنهُم جِبْرِيلُ فَشَقَ ـوفِها مَاءِ زمزم پیدِه حتى لَبَّتِهِ حَتَّى فَرَغَ مِنْ فِيهِ تَوْرٌ مِنْ ذَهَب مَحْشُوا إِيْمَانًا وَحِكْمَةٌ فَحَشَا بهِ صَدْرَا إِيْمَانًا وَحِكْمَةٌ فَحَشَا بِهِ صَدْرَهُ وَلَغَادِيْدَهُ يَعْنِي عُرُوقَ خلقه أطْبَقَهُ ثُمَّ عَرَجَ بِهِ إِلى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَضَرَبَ بَابًا مِنْ أَبْوَابِهَا فَنَادَاهُ أَهْلَ السَّمَاءِ مَنْ هَذَا فَقَالَ جِبْرِيلُ قَالُوا وَمَنْ مَعَكَ قَالَ مَعِيَ مُحَمَّدٌ قَالَ وَقَدْ بُعِثَ قَالَ نَعَمُ قَالُوا فَمَرْحَبًا بِهِ وَأَهْلًا ) بهِ أَهْلُ السَّمَاءِ لَا يَعْلَمُ أَهْلُ السَّمَاءِ بِمَا يُرِيدُ اللهُ بِهِ فِي الْأَرْضِ حَتَّى يُعْلِمَهُمْ فَوَجَدَ فِي السَّمَاءِ الدُّنْيَا آدَمَ فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ هذا أبوكَ آدَمُ 1 جلد سیزدهم