مسیح اور مہدیؑ — Page 6
مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 6 واقعہ معراج اور رسول اللہ ﷺ کا بلند مقام بیت المقدس تک پھیلے گا اور سیر زمانی میں اشارہ ہے طرف تعلیمات اور تاثیرات کے یعنی مسیح موعود کا زمانہ بھی آنحضرت ﷺ کی تاثیرات سے تربیت یافتہ ہو گا جیسا کہ قرآن میں فرمایا ہے: وَاخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ (سورة الجمعة: (4) اور سیر لا مکانی ولا زمانی میں اشارہ ہے طرف اعلیٰ درجہ کے قرب اللہ اور مدانات کی جس پر دائرہ امکان قرب کا اختتام ہے۔“ (ضمیمہ خطبہ الہامیہ اشتہار چندہ منارة امسح روحانی خزائن جلد 16 صفحہ 26 ایڈیشن 2008) 5۔”معراج انقطاع تام تھا اور سر اس میں یہ تھا کہ تارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نقطہ نفسی کو ظاہر کیا جاوے۔آسمان پر ہر ایک روح کے لیے ایک نقطہ ہوتا ہے اس سے آگے وہ نہیں جاتی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نقطہ نفسی عرش تھا اور رفیق اعلیٰ کے معنے بھی خدا ہی کے ہیں۔پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر اور کوئی معزز ومکرم نہیں ہے۔“ ملفوظات جلد 1 صفحہ 386 ایڈیشن 1988) 6۔” جب تک انسان بے خبر ہوتا ہے اس کی باتیں نری انکلیں ہی ہوتی ہیں۔ایسا ہی معراج کے متعلق لوگوں کا حال ہے۔وہ اس کی حقیقت اور اصلیت سے بے خبر ہیں۔ہم تو معراج کو بالکل بیداری تسلیم کرتے ہیں۔ہاں ایک بیداری دنیا داروں کی ہے اور ایک بیداری عارفوں ،صادقوں، نبیوں اور خدا رسیدہ لوگوں کی بیداری ہوتی ہے اور ان دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔آنحضرت ﷺ چونکہ تمام انبیاء علیہم السلام سے افضل اور تمام صادقوں اور عارفوں کے سردار ہیں۔اس لحاظ سے یہ مرتبہ بھی آپ کا سب سے بڑھا ہوا ہے۔معراج ایک کشفی معاملہ تھا۔“ ( ملفوظات جلد 4 صفحہ 341 ایڈیشن 1988)