مسیح اور مہدیؑ

by Other Authors

Page 4 of 708

مسیح اور مہدیؑ — Page 4

مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں واقعہ معراج اور رسول اللہ ﷺ کا بلند مقام قرین قیاس ہے کہ واقعہ معراج ایک سے زائد مرتبہ پیش آیا اور ابتدائی زمانہ کے پہلے واقعہ معراج میں نمازیں فرض ہوئیں۔دوسرے معراج کا زمانہ بھی اسراء 11 نبوی سے پہلے ہی ہو سکتا ہے جس کے بارہ میں سورۃ النجم میں ذکر ہے جو 5 سال نبوی میں نازل ہوئی، فرمایا: وَلَقَدْ رَاهُ نَزْلَةً أُخْرى(سورة النجم : 14) یعنی رسول کریم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کو اس کے دوبارہ نزول کے موقع پر بھی دیکھا۔بہر حال واقعہ معراج کی اس حدیث سے رسول اللہ ﷺ کا بلند مقام و مرتبہ اور سردار انبیاء ہونا ثابت ہے، اس روحانی سفر میں آپ ﷺ جملہ انبیاء سے سبقت لے گئے اور ساتویں آسمان سے بھی آگے انتہائی قرب کے مقام سدرۃ المنتہی اور قاب قوسین پر پہنچے ، یہاں تک کہ حضرت موسیٰ کلیم اللہ جیسے عظیم المرتبت نبی بھی رشک سے کہہ اٹھے کہ مجھے یہ گمان نہ تھا کہ کوئی نبی مجھ سے بھی آگے رفعت پائے گا۔امت کے جس گروہ کے نزدیک معراج حالت خواب میں اعلیٰ درجہ کا روحانی نظارہ اور کشف تھا ، ان کے یہ دلائل زیادہ وزن رکھتے ہیں :۔اول یہ کہ احادیث معراج میں حضور ﷺ کے سوئے ہونے یا نیند اور بیداری کی درمیانی حالت کا ذکر ہے۔نیز یہ بیان ہے کہ معراج میں رسول اللہ ﷺ کا دل بیدار تھا اور آنکھ سوئی تھی پتہ چلتا ہے کہ یہ قلبی رؤیت کا واقعہ تھا۔قرآن کریم سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔فرمایا: مَا كَذَبَ الْفُوَّادُ مَا رَأى (سورۃ النجم :12) کہ اس واقعہ معراج میں ) دل نے جو دیکھا وہ غلط نہیں تھا۔پھر اس روایت میں واقعہ معراج کے اختتام پر وَاسْتَيْقَظَ کے الفاظ ہیں کہ پھر رسول اللہ علی رسول کی آنکھ کھل گئی ، اس سے بھی صاف ظاہر ہے کہ یہ نظارہ ایک لطیف کشف تھا۔صحابہ کرام میں سے کسی نے معراج یا اسراء کے واقعہ میں جسم سمیت آسمان پر جانے کی صراحت نہیں کی ، بلکہ اس کے برعکس ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ واقعہ معراج میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم اپنی جگہ سے غائب نہیں ہوا۔بلکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی روح کو سیر کروائی۔اسی طرح حضرت امیر معاویہ اور حضرت حسن بصری واقعہ اسراء کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رؤیاء صادقہ قرار دیتے ہیں۔سیرت ابن هشام حصہ دوم صفحہ 13 ناشر اسلامی کتب خانہ )