مسیح اور مہدیؑ

by Other Authors

Page 3 of 708

مسیح اور مہدیؑ — Page 3

مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 3 واقعہ معراج اور رسول اللہ ﷺ کا بلند مقام پس آپ واپس جائیں اور اپنے رب سے اپنی اور اپنی امت سے ان کی تخفیف کروائیں۔۔۔پس حضرت موسیٰ مسلسل آنحضرت ﷺ کو اپنے رب کی طرف لوٹاتے رہے یہاں تک کہ نمازیں پانچ تک ہو گئیں۔۔۔راوی کہتے ہیں کہ آپ کی آنکھ کھلی تو آپ مسجد حرام میں تھے۔تشریح امام بخاری نے اپنی صحیح میں واقعہ معراج و اسراء کا ذکر آٹھ مقامات پر کیا ہے، پانچ جگہ تفصیلی اور تین جگہ مختصر۔یہ سب روایات حضرت انس بن مالک سے مروی ہیں جن میں سے تین روایات وہ حضرت مالک بن صعصعہ سے بیان کرتے ہیں۔مزید برآں امام بخاری نے اپنی صحیح میں دوا لگ عنوان ”باب المعراج “ اور ”باب الاسراء قائم کر کے یہ اصولی اشارہ بھی فرما دیا ہے کہ ان کے نزدیک معراج و اسراء دو الگ الگ واقعات ہیں۔اگر چہ امام صاحب نے جن راویوں سے دونوں ملتے جلتے روحانی سفروں کی تفاصیل بیان کی ہیں۔ان میں معراج و اسراء کے واقعات آپس میں خلط ملط ہو گئے ہیں۔چنانچہ مذکورہ بالا معراج کی روایت کا آغاز ہی اسراء جس رات ہوا“ کے الفاظ سے ہوتا ہے، جس میں یہ اشارہ ہو سکتا ہے کہ معراج بھی اسراء کی طرح ایک روحانی سفر تھا جو مسجد اقصٰی کی بجائے آسمان کی طرف ہوا۔جس کے لئے الفاظ عَرَجَ إِلَى السَّمَاء “ ہیں ، یعنی آپ آسمان کی طرف بلند ہوئے۔نیز اس میں دیگر واقعات بھی خاص معراج کے ہی بیان ہیں ، جیسے رسول اللہ کا آسمان میں سدرۃ المنتہی تک سفر اور نمازوں کی فرضیت کا واقعہ وغیرہ۔قرآن شریف اور دیگر احادیث میں بھی معراج اور اسراء کے دوالگ الگ واقعات ہونے کی صراحت موجود ہے۔چنانچہ معراج کے روحانی سفر کا ذکر سورۃ النجم میں ہے جس کے مطابق رسول اللہ کو مکہ سے آسمان تک روحانی سیر کرائی گئی۔اس میں بیت المقدس جانے کا کوئی ذکر نہیں۔اسراء کے روحانی سفر کا ذکر سورۃ بنی اسرائیل میں ہے جو مکہ سے بیت المقدس تک تھا۔اس میں آپ کے آسمان پر جانے کا کوئی ذکر نہیں۔واقعہ اسراء و معراج کے زمانہ میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے، اہل سیران واقعات کا زمانہ 11 سال نبوی بیان کرتے ہیں۔حالانکہ نمازیں جو معراج میں فرض ہو ئیں ، شروع اسلام سے ادا کی جاتی تھیں حتی کہ پہلی نازل ہونے والی سورۃ العلق میں بھی رسول اللہ کو کفار کی طرف سے نماز سے روکنے کا ذکر ہے۔اس لحاظ سے ماننا پڑے گا کہ معراج ابتدائی زمانہ اسلام میں ہوا۔لہذا یہ بات زیادہ