مسیح اور مہدیؑ

by Other Authors

Page 2 of 708

مسیح اور مہدیؑ — Page 2

مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 2 واقعہ معراج اور رسول اللہ مے کا بلند مقام الْحَرَامِ۔( نصر الباری شرح بخاری جلد سینز دہم صفحہ 330 تا335۔ناشر مکتبہ الشیخ بہادر آباد کراچی نوٹ : معراج نبوی کے بارہ میں اس طویل حدیث کے اہم حصے یہاں مذکور ہیں۔بغرض اختصار چھوڑے گئے الفاظ کی جگہ عربی متن اور اردو ترجمہ میں بھی چند نقطے لگا دیے ہیں۔ترجمه شریک بن عبد اللہ نے بیان کیا کہ انہوں نے حضرت انس بن مالک سے سنا کہ جس رات - رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد الحرام سے (روحانی) سیر کروائی گئی ، پہلے اس سے کہ آپ پر وحی کی جائے۔آپ کے پاس تین افراد (فرشتے) آئے اس وقت آپ خانہ کعبہ میں سوئے تھے۔ان میں سے ایک (فرد) نے کہا ! وہ کیسا ہے؟ آنے والوں میں درمیانہ بولا ! وہ سب سے بہتر ہے۔اور ان میں سے ایک کہنے لگا ان میں سے سب سے بہتر کو لے لو۔تو یوں اس رات ہوا۔پھر آپ نے ان افراد کو نہیں دیکھا یہاں تک کہ وہ ایک اور رات کو آئے جس میں آپ کا دل دیکھتا تھا اور آپ کی آنکھیں سوتی تھیں مگر دل نہ سوتا تھا اور اسی طرح نبی ہوتے ہیں، ان کی آنکھیں سوتی ہیں اور دل نہیں سوتا۔پھر ان تینوں افراد نے آپ سے کوئی بات نہیں کی یہاں تک کہ انہوں نے آپ کو اٹھایا اور آپ کو چاہ زمزم کے پاس رکھا۔پھر وہاں ان سے آپ کو جبریل نے لے لیا اور جبریل نے آپ کے سینہ اور ناف کے درمیان چیرا یہاں تک کہ آپ کے سینہ اور پیٹ کو خالی کیا اور اسے اپنے ہاتھ سے زمزم کے پانی سے دھویا یہاں تک کہ آپ کا پیٹ صاف کر دیا۔پھر ایک سونے کا تھال لایا گیا جو ایمان اور حکمت سے بھر پور تھا تو اس سے آپ کے سینہ اور حلق کی نالیوں کو بھر دیا پھر اسے بند کر دیا پھر وہ ( جبریل ) آپ کو پہلے آسمان کی طرف لے گئے۔۔۔اس کے بعد مختلف نچلے آسمانوں میں دیگر انبیاء اور فضیلت کلام الہی کی وجہ سے ساتویں آسمان پر حضرت موسی کی ملاقات کا ذکر ہے۔حضرت موسی نے کہا کہ اے میرے رب! مجھے یہ گمان نہیں تھا کہ وہ مجھ سے بھی بلند کیا جائے گا۔پھر جبریل آپ کو لے کر وہاں سے بھی اوپر بلند ہوئے جو سوائے اللہ کے کوئی نہیں جانتا۔یہاں تک کہ آپ سدرۃ المنتہی پر آئے اور رب العزت جبار خدا قریب ہوا اور نیچے آیا۔یہاں تک کہ وہ آپ سے دو قوسوں کی کمان یا اس سے بھی قریب ہوا۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو بھی وحی فرمائی اس میں آپ کی امت پر ہر دن میں پچاس نمازوں کی وحی تھی۔پھر آپ نیچے اترے یہاں تک کہ (حضرت ) موسی نے آپ کو روک لیا اور کہا۔۔۔یقیناً آپ کی امت اس کی طاقت نہیں رکھتی۔ہے۔