مسیح اور مہدیؑ

by Other Authors

Page 187 of 708

مسیح اور مہدیؑ — Page 187

مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں رَسُولُ 187 عکس حوالہ نمبر : 60 موعود امام - اُمت محمدیہ کا ایک فرد ایمان کے بیاں میں ۳۹۱ - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنہ قال قال ۳۹۱ - ابو ہریرہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم خدا رسول الله صلى الله عليه وستم ( والله کی مریم کے بیٹے اتریں گے آسمان سے اور وہ حاکم ہو نگے مدل لمُنْزِلَنَّ ابْنُ مَرْيَمَ حَكَمًا عَادِنَا فلیکسری کریں گے تو توڑ ڈائیں گے صلیب کو اور مار ڈالیں گے سور کو دیر الصَّلِيبَ وَلَيَقْتُلَنَّ الْجُبْرِيرَ وَلَيَضَعَن الجزية موقوف کر دیں گے جزیہ کو اور چھوڑ دیں گے جوان ہونٹ کو۔پھر ولَمْرَكَنَّ الْقِلَاصٌ فَلَا يُسْعَى عَلَيْهَا واخذهن کوئی محنت نہ کرے گا اس پر اور لوگوں کے دلوں میں سے کپت اور الشَّحْنَاءُ وَالْبَاعُضُ وَالتَّحَاسُدُ وَلَيَدْعُون إلى دشمنی اور جلن جاتی رہے گی اور بلا دیں گے وہ لوگوں کو ماں دینے کے لیے لیکن کوئی قبول نہ کرے گا ( اس وجہ ہے کہ وہ جت نہ الْمَالَ فَلَا يَقْتِلُهُ أَحَدٌ ))۔ہو گی اور مال کثرت سے ہر ایک کے پاس ہو گا )۔۳۹۲- عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ -۳۹۲ - ابو ہریرہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیسے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (( كَيْفَ أَنتُمْ إِذَا نَزَل ہو گے تم جب مریم کا بیٹا اترے گا تم لوگوں میں اور تمہارا امام تم ابْنَ مَرْيَمَ فِيكُمْ وَإِمَامُكُمْ مِنكُمْ ))۔میں سے ہو گا۔۳۹۳- عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَقُول قال رسول الله -۳۹۳ - ابوہریرہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تمہارا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ أَنتُمْ إِذَا نَزَلَ کیا حال ہو گا جب مریم کے بیٹے اتریں گے تم میں اور امامت کریں ابْنُ مَرْيَمَ فِيكُمْ وَأَمَّكُمْ ))۔گے تمہاری۔٣٩٤ - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ الله عنه ان ۳۹۴- ابو ہریرہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرم یا تمہارا رسول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم قال کیا حال ہو گا جب مریم کے بیٹے اتریں گے تم لوگوں میں پھر امامت كَيْفَ أَنتُمْ إِذَا نَزَلَ فِيكُمْ ابْن مریم کریں گے تمہاری تم ہی میں سے (ولید بن مسلم نے کہا) میں نے فائكُمْ مِنْكُمْ « فَقُلْتُ لِابْن أبي تنير ان ابن ابی ذئب سے کہا مجھے سے اوزاعی نے حدیث بیان کیا زہری سے (۳۹) پیر یعنی کوئی اس کی پرواہ نہ کرے گانہ اس کی خدمت کرے گا اس وجہ سے کہ دنیا کے مال بے حد پڑے جو تھے لوگوں کو حاجت نہ ہو گی اور دوسرے قیمت قریب ہو گی لوگ جلدی جلدی اپنے مقنی کی فکر کریں گے۔قاضی عیاض نے اور صاحب مطالع نے کہا لا يسعى عليها کے معنی یہ ہیں کہ اس کی زکو نہ مانگیں گے اس وجہ سے کہ زکوة لینے والا کوئی نہ ہو گا اور یہ تاویں باطل ہے کئی وجہ سے اور صواب وہی ہے جو معنی ہم نے بیان کئے۔(توون) (۳۹) یعنی تابع ہو نگے شریعت محمدمی کے اور پیروی کریں گے قرآن اور حدیث کی تو حضرت معینی اگر یہ باہر ہیں پر ان کی پیغمبری کا زمانہ پیغمبر کے ظہور پر ختم ہو گیا اب جو رود نیا میں آدیں گے تو ہمارے پیغمبر کی امت میں شریک ہو کر قرآن وحدیث کے موافق عمل کریں گے۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ عینی خود مجتہد مطلق ہوں گے اور قرآن وحدیث سے احکام نکالیں گے اور کسی مجتہد کے تابع نہ ہونگے اور سہیات جدید از عقل ہے کہ پیغمبر ایک مجتہد کا مقلد ہو اور باطل ہے وہ خیال حنفیہ کا کہ عینی امام ابو حنیفہ کے مذہب پر چلیں گے بلکہ ایسے خیال میں تو بین حضرت سینی کی نکلتی ہے اور جن حنفیہ نے ایسا خیال کیا ہے ان کا علیاء محققین نے رد کیا ہے ورقوں نکلی مذہب کے علماء نے توبہ