مسیح اور مہدیؑ — Page 112
مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 112 عکس حوالہ نمبر : 34 *P قرآن وحدیث میں رفع الی اللہ" کا مطلب حضرت مینی والابون) ومظهرك من الذِينَ كَفَرُوا بینی تجھے ان کفار کے اتہامات سے پاک اور صلات کرنے والا ہوں۔یہ تصور بعد کی پیداوار ہے حقیقت ہے کہ حضرت میتی کے دند آسمان پراٹھائے جانے کا تصور ذہب عیسائیت میں بعد کی اختراع ہے۔یہودیوں نے مشہور کر دیا را در بظاہر نظر بھی ایسا ہی آتا تھا کہ اُنھوں نے حضرت مسیح کو صلیب پر قتل کر دیا ہے۔حواریوں کو معلوم تھا کہ حقیقت حال یہ نہیں لیکن وہ بھی یہ تقاضائے مصلحت اس کی تردید نہیں کر سکتے تھے۔ر اور صل تو یہ ہے کہ واقد تصلیب کے بعد خود حواریوں کے متعلق بھی بالتحقیق معلوم نہیں کہ وہ کہاں رہے او کیا کرتے رہے۔کچھ عرصہ کے بعد حالات نے پلٹا کھایا اور ان کا نام پھر سنتے ہیں آیا ، اس دوران میں یہ خیال عام ہو چکا اور پختگی حاصل کر چکا تھا کہ حضرت مسیح مصلوب ہو چکے ہیں۔جب حواریوں کو قدر سے سکون حاصل ہوا تو انھوں نے مختلف روایات کو یکجا کر کے اناجیل مرتب کیں رسب سے پہلی انہیں مرے میں ترتیب ہوئی تھی، اس وقت یہ کہنا کہ میں شخص کو صلیب دی گئی تھی وہ حضرت مسیح نہیں تھے کوئی اور تھا۔ایک ایساد مونی تھا میں کی ہر طرف سے تردید رہی نہیں ملکہ تفصیک ہوئی۔اس لئے اس عام خیال کی تردیئے بغیر حضرت مسیح کی عظمت کو بہت مار رکھنے کا ایک ہی طریقہ ہو سکتا تھا کہ ان کے متعلق پی شہور کر دیا ہے کہ وہ صلیب کے تیسرے دن کی اُٹھے اور پھر آسمان کی طرف اُٹھا لئے گئے۔انا جیل میں دیکھئے۔متی اور بوقت کی اناجیل میں آسمان کی طرف اٹھائے جانے کے واقعہ کا کوئی ذکر نہیں۔مری اور لوت میں اخیر میں صرف ایک فقرہ میں اس کا ذکر آیا ہے۔یسوع اُن سے کلام کرنے کے بعد آسمان پر اُٹھایا گیا۔" حتی کہ حضرت سیت کے دوبارہ کی اُٹھنے کے متعلق بھی تمام انا میں میں صرف مریم محمد لینی ہی مینی شام ہے درینان مط۳) اور مریم مگر نینی وہی ہے جس میں سے اناجیل کے بیان کے مطابق، حضرت سیح نے سات بدروحوں کو نکالا تھا رتی ہے۔عیسائیوں نے رفع الی السماء کا جو عقید پھیلا یا اس نے نہ صرف حضرت مسیح کی عظمت اور بزرگی کو ہی مقام الوہیت تک پہنچادیا۔بلکہ شک خاطر، افسردہ اور پیر مردہ جماعت کے لئے مایوسیوں کی تاریخی میں امید کی ایک کرن بھی پیدا کردی کہ وہ آنے والا آئے گا اور اس کے ساتھ ہی انہیں عظمت و اقتدار کی ایک نئی زندگی عطا کرے گا۔راستے وانے کے عقیدہ کے متعلق ختم نبوت کے عنوان کے تحت، معراج انسانیت میں تفصیل سے لکھا وہ آنے والا ! گیا ہے، حالانکہ حضرت معینی نے اپنے آنے کے متعلق نہیں، بلکہ اس آنے والے کے متعلق کہا تھا جن کا اسم گرامی احمد تھا۔گرفتاری سے تھوڑی تیر