مسیح اور مہدیؑ — Page 57
مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 57 عکس حوالہ نمبر : 14 صحابۂ رسول کا پہلا اجماع اور وفات عیسی ار کتاب المناقب / باب: بلاتر جمعه وَأَعْرَبُهُم أَحْسَابًا فَبَايِعُوا عُمَرَ أَوْابَاعُبَيْدَةَ بنَ الجَرَّاحِ فَقَالَ عُمَرُ بَل تُبَايِعُكَ أَنْتَ فَالْتَ سَيِّدُنا وَخَيْرُنَا وَأَحَبُّنَا إلى رسولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخَذَ عُمَرُ بِيَدِهِ قبَايَعَهُ وَبَايَعَهُ النَّاسُ فقال قائل قَتَلْتُمْ سَعَدَ بنَ عُبَادَةَ قَالَ عُمَرُ قَتَلَهُ اللهُ وقال عبد الله بن سالم عنِ الزُّبَيْدِى قال عبدُ الرَّحمَنِ بْنُ القَاسِمِ أَخْبَرَنِي القَاسِمُ أَنَّ عَائِشَةَ قَالتْ شخص بَصَرُ النبي الله ثم قال فى الرَّفِيقِ الأغلى ثلاثا وقص الحديث قالت فما كانَتْ مِنْ خُطْبَتِهِمَا مِنْ خُطْبَةٍ إِلَّا نَفَعَ اللهُ بِها لَقَدْ خَوَّفَ عُمَرُ النَّاسَ وَإِنَّ فِيْهِمْ لَيفَاقًا فَرَدَّهُمُ اللهُ بِذلِك ثمَّ لَقَدْ بَصْرَ أبوبكر الناسَ الهُدَى وَعَرَّفَهُمُ الحَقِّ الَّذِى عَلَيْهِمْ وَخَرَجُوا بِهِ يَتْلُونَ وَمَا مَحمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ إِلَى الشَّاكِرِينَ ) ترجمہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ہی نے جس وقت انتقال فرمایا اس وقت ابو بکر منع میں تھے ( جو مسجد نبوی سے ایک میل کے فاصلے پر ہے) اسماعیل نے کہا آپ کی مراد دینہ کے بالائی علاقہ سے تھی پھر عمر اٹھ کر کہنے لگے خدا کی قسم رسول اللہ نے ﷺ کا انتقال نہیں ہوا ہے عائشہ نے بیان کیا کہ حضرت عمر نے فرمایا خدا کی قسم اس وقت میرے دل میں صرف یہی آتا تھا کہ (حضور بچوں پر کی وفات نہیں ہوتی ہے) اللہ تعالیٰ آپ کو ضرور اس بیماری سے (اچھا کر کے ) اٹھائے گا اور آپ کچھ لوگوں کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دیں گے (یعنی منافقوں کے یا ان لوگوں کے جو کہتے ہیں کہ آپ کا وصال ہو گیا) اتنے میں ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے اور آپ ﷺ کے روئے انور کے ) اوپر سے کپڑا کھول کر بوسہ دیا اور فرمایا میرے ماں باپ آپ پر قربان آپ زندگی میں بھی پاکیزہ تھے اور وفات کے بعد بھی قسم اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اللہ تعالی آپ کو دو بار موت کا مزہ نہیں چکھائے گا۔اس کے بعد آپ باہر تشریف لائے اور فرمایا اے قسم کھانے والے بیٹھ جا، پھر جب ابو بکر نے گفتگو شروع کی تو عمر بیٹھ گئے اور ابو بکر نے پہلے اللہ کی حمد وثنا بیان کی اور کہا سن لو تم میں سے جو کوئی محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کرتا تھا (اسے معلوم ہونا چاہئے کہ بلاشہ مصلی اللہ علیہ سلم کا انتقال ہو چکا ہے او جو کوئی الہ کی عادت کرتا تھا تو اللہ زندہ ہے اس پر بھی موت طاری نہیں ہوگی ( ہمیشہ رہے گا) اور ابو بکر نے سورہ زمر کی یہ آیت پڑھی: وانك ميت وانهم ميتونم اے پیغمبر ! آپ بھی مرنے والے ہیں اور وہ بھی مریں گے اور اللہ تعالی نے فرمایا: او محمد صلی اللہ علیہ وسلم تو صرف اللہ کے رسول ہیں ( یعنی معبود نہیں ) ان سے پہلے رسول گزر چکے ہیں پس کیا اگر ان کی وفات ہو جائے یا شہید کر دئے جائیں تو کیا تم اپنی ایڑیوں کے بل ( اسلام سے ) پھر جاؤ گے ( ارتداد اختیار کر لو گے) اور جو شخص ارتداد اختیار کرے گا وہ اللہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا اور اللہ عنقریب شکر گزار بندوں کو بدلہ دینے والا ہے ( آل عمران) بیان کیا یہ سن کر لوگ چیخ مار کر رونے لگے بیان کیا کہ انصار سقیفہ بن ساعدہ میں سعد بن عبادہ کے پاس جمع ہو گئے اور جلد افتم نصر الباری