مسیح اور مہدیؑ — Page 53
مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 53 صحابہ رسول کا پہلا اجماع اور وفات عیسی عکس حوالہ نمبر : 13 كتاب المغازي ما در حال ثنا میں بن بكير قال حدثنا الليث من عقيل عن ابن شهاب قال الخبر لى ابو سلمة انا الثة اخبرته ان اجابكرا قبال على فرس من مسكنه بالسفح حتى نزل فدخل المسجد فلم يك و الناس ان حتى دخل على عائشه نتيمور رسول الله صلى الله عليه وسلم وهوم بحيرة تكشف عن والسلام تراكب عليه فقبله و يكي شعر قال با بی انت واني والله لا يجمع الله عليك مرتين اما الموتة التى كتبت عليك فقل منها قالي الزهرى وهد ثنى ابو مسلمة عن عبد الله بن عباس أن أبا بكر خرج وعمر يكم الناس فقال اجلس با عمر فا في عمر يجب أن يجلس فاقبل الناس إليه وتركو العمر فقال ابو بكر اما جد من كان منكو يعبد محمداً فان محمد اقدمات ومن كان منكم يعبد الله خان الله حتى لا يموت قال الله تعالى وما محمد الرسول قد خلت من قبله الرسل إلى الشاكرين وقال الله نكان الناس لم يعلموا ان الله انزل هذ الأية عنى تلاها ابومبكر فتلقاها منه الناس كلهم فما اسم بشر امن الناس الا يتلوها اخبرني سعيد المسيب ان عمر قال والله ما هو الا ان سمعت أبا بكر تلاها معقرت حتى ما تقلنى رجلاً وحتى اهو بيت الى الأرض حين سمعته تلاها ان النبي صلى الله عليه وسلم قيد مات ترجمہ - حضرت عائشتہ مہ نے بیان فرمایا کہ جب حضور اقدس کی وفات ہوگئی تو احضرت ابو بکر یہ اپنی قیام گاہ ا ہے گھوڑے پر آئے اور گھوڑے سے اتر کر مسجد میں گئے ، آپ نے کسی شخص سے کوئی بات نہیں کی اور آپ عائشہ کے پاس دینی میرے تجرہ میں آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف گئے ان حضور ایک مینی چادر سے ڈھکے ہوئے تھے ابو ہوگیا نے آپ کا چہرہ انور کھولا اور جھک کر بوسہ لیا اور رونے لگے پھر فرمایا میرے ماں باپ آپ پر خدا ہوں خدا کی قسم الشر تعالی آپ پر دو موتیں جمع نہیں کرے گا بس ایک موت جو آپ کے لئے لکھی گئی تیار ارشاد الى اِنكَ مَيْت ) وہ سوچتی۔زہری نے بیان کیا کہ مجھ سے ابو سلمہ نے عبد اللہ بن عباس سے یہ روایت بیان کی کہ ابو بکر حجرہ شریفے سے باہر آئے اس وقت مرا ، جوش میں بھرے ہوئے ) لوگوں سے باتیں کر رہے تھے یعنی عمر کہہ رہے تھے کہ حضور کا ابھی انتقال نہیں ہوا ہے جو ایسا کہے گا اس کی گردن اڑا دوں گا، ابو بکرہ نے کہا کہ عمر بیٹے جاؤ لیکن عمر نے بیٹھنے سے انکار کیا پھر سارے لوگ حضرت ابو بکر یہ کی طرف متوجہ ہوگئے اور عمرہ کو چھوڑ دیا حضرت الیا کریں نے فرمایا اما بعد با تم میں سے جو بھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پرستش کرتا تھا وہ سن لے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا اور جو تم میں سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا تھا تو بیشک اللہ زندہ ہے وہ کبھی نہیں مرے گا۔وَمَا محمد الارسول الالا یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم صرف خدا کے رسول ہیں اور ان سے پہلے بہت سے رسول گزر چکے ہیں ارشاد شاکرین تک حضرت عباس کا بیان ہے رجب ابو بحریہ نے یہ تلاوت کی تو خدا کی قسم ایسا معلوم ہوا کہ جیسے پہلے سے لوگوں کو معلوم ہی نہیں تھا کہ اللہ تعالی نے یہ آیت نازل کی ہے اور جب ابو بکر نے اس آیت کی تلاوت کی تو سب نے آپ سے یہ آیت سیکھی ہے، اب یہ حال تھا کہ جس کو دیکھو سب اسی آیت کی تلاوت کر رہے۔۔(زہری نے بیان کیا کہ پھر مجھ سعید بن مسیب نے بیان کیا کہ عمر رضہ نے فرمایا خدا کی قسم ایسا محسوس ہوا