مسیح اور مہدیؑ

by Other Authors

Page 619 of 708

مسیح اور مہدیؑ — Page 619

مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 619 فیضانِ ختم نبوت“ سفن این ناحیه (جلد اول) عکس حوالہ نمبر : 216 كتاب الجنائز قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ إِذَا اسْتَهَلُ الصَّبِيُّ صَلَّى عَلَيْهِ وَ (یعنی اس کے زندہ ہونے کا علم ہو جائے ) تو اس کی نماز جنازہ بھی پڑھی جائے گی اور وراثت بھی جاری ہوگی۔ورث ۱۵۰۹: حَدْلَنَا هِشَامُ مَنْ عَمَّارٍ لَنَا الْبَخْرِى ابْنُ عُبَيْدٍ :۱۵۰۹ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ النَّبي الله صلوا على رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے بچوں کی نماز اطفَالِكُمْ فَإِنَّهُمْ مِنْ أَفْوَاطِكُم۔جنازہ پڑھا کرو کیونکہ وہ تمہارے لئے پیش خیمہ ہیں۔: بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّلَاةِ عَلَى ابْنِ رَسُولِ چاپ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اللَّهِ وَ ذِكْرُ وَفَاتِهِ صاحبزادے کی وفات اور نماز جنازہ کا ذکر ۱۵۱۰: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بن نُمَيْرٍ ثَنَا مُحَمَّدُ ۱۵۱۰: حضرت اسماعیل بن ابی خالد کہتے ہیں کہ میں نے بن بشر فنا إسْمَاعِيلُ بْن أبي خالد قَالَ قُلْتُ لِعَبْدِ الله عبد اللہ بن ابی اوفی سے کہا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ بن أبي أوفى رَضِي اللَّه تَعَالَى عَنْهُ رَأَيْتَ ابرهيم ابن وسلم کے صاحبزادے جناب ابراہیم کی زیارت کی ؟ کہنے رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَات و هو صغير و لگے کم سنی میں ان کا انتقال ہو گیا اور اگر محمد کے بعد کسی تی لَو قُضِيَ أَنْ يَكُونَ بَعْدَ مُحَمَّدٍ نَبِيٍّ لَعَاشَ ابنه و لكن لا نبی نے آنا ہوتا تو آپ کے صاحبزادے زندہ رہتے (اور بڑے ہو کر نبی بنتے ) لیکن آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔بعده ۱۵۱۰: حدثنا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بَنْ مُحَمد ثنا داؤد بن ۱۵۱۱: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ شَبِيبٍ الْجَاهِلِيُّ لَنَا إِبْرَهِيمُ بْنُ عُثْمَانَ ثنا الحكم بن عتيبة جب رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے جناب عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا مَاتَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ رَسُولِ ابراہیم کا انتقال ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى رَسُولُ الله صلى الله علیه جنازہ پڑھایا اور فرمایا: جنت میں اس کو دودھ پلانے وَسَلَّمَ وَقَالَ إِنَّ لَهُ مُرْضِعًا فِي الْجَنَّةِ وَلَو عاش لكان والی بھی ہے اور اگر یہ زندہ رہتا تو صدیق نہیں ہوتا اور صديقًا نَّا وَ لَوْ عَاشَ لَعَقَتُ أحْوَالهُ الْقِبْط وما اشترقی اگر یہ زندہ رہتا تو اس کے تھیال کے لوگ قبلی آزاد ہو جاتے پھر کوئی قبطی غلام نہ بنتا۔۱۵۱۲ : حَدَّثَنَا عَبد الله بن عمران ثنا أبو داود شنا هشام :۱۵۱۲ حضرت حسین بن علی فرماتے ہیں کہ جب رسول بن أبي الوَلِيهِ عَنْ أمَّهِ عَنْ فَاطِمَةَ بنتِ الحُسَيْنِ عَن ابيها الله کے صاحبزادے ابراہیم کا انتقال ہوا تو خدیجہ نے الْحُسَيْنِ بْن عَلي قَالَ لَمَّا تُوَقِي القَاسِمُ ابنُ رَسُول عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! قاسم کی چھاتی کا دودھ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ خَدِيجَةُ يَا رَسُولَ اللهِ فرَّتَ زائد ہو گیا کاش اللہ تعالی اس کو رضاعت پوری ہونے لبَيِّنَةُ الْقَاسِمُ فَلَوْ كَانَ اللَّهُ أَبْقَاهُ حَتی بستگیل رضاعه تک زندگی عطا فرماتے۔رسول اللہ نے فرمایا : اس کی فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ان اتمام رضاعة في رضاعت جنت میں پوری ہو گی۔عرض کرنے لگیں۔