مسیح اور مہدیؑ — Page 298
مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 298 عکس حوالہ نمبر: 100 مران شرع متكون مولدهم مد اسلام کو شان و شوکت حاصل ہونے کے وقت سے ہے۔حضور علیہ السلام کی وفات سے اس کی ابتداء مراد ہے۔142 خاص نشانات کا ظہور اور تیرھویں صدی كتاب الفتن C یہ بھی احتمال ہے کہ المتین میں الف لام عہد کیلئے ہو ، اور مائتین“ سے مراد ہزار سال کے بعد دو سو سال ہوں۔اور یہ وہ وقت ہو گا، جب قیامت کی چھوٹی نشانیاں ظاہر ہو چکی ہونگی اور امام مہدی کے ظہور ، حضرت عیسی علیہ السلام سے ظہور، اور دوسری بے دریے علامات مثلاً مغرب سے سورج کے طلوع ہونے ، دابتہ الارض کے نکلنے، اور یا جوج ماجوج کے نکلنے کا زمانہ قریب ہو چکا ہوگا۔علامہ طیبی فرماتے ہیں "الآيات بعد المائتين " مبتدا خبر ہیں اور مضاف محذوف ہے ) ای تتابع الآيات بعد المأتين" ہے (یعنی قیامت کی نشانیوں کا پے در پے ظاہر ہوتا دو سو ۲۰۰ سالوں کے بعد ہوگا۔) اور اس کی تائید گذشتہ حدیث کے جملے "و آیات تتابع كنظام قطع سلكه فتابع سے ہو رہی ہے۔بظاہر دو سور ۲۰۰ سالوں کا اعتبار اس حدیث کے بیان کے بعد سے ہے (انھی ) اور عقل مند لوگوں کیلئے اس توجیہ کا غیر واضح ہونا پوشیدہ نہیں۔تخریج: اسی طرح حاکم نے مستدرک حاکم میں بھی نقل کیا ہے۔۵۴۶۱ : وَعَنْ لَوْبَانَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَأَيْتُمُ الرَّايَاتِ السُّودَ قَدْ جَاءَ تُ مِنْ قَبْلِ خَرَاسَانَ فَأَتَرُهَا فَإِنَّ فِيهَا خَلِيقَةُ اللَّهِ الْمَهْدِى - رواه احمد والبيهقي في دلايل النُّبُوَّةِ الخرجه الترمذى في السنن ٤٦٠/٤ حديث رقم ۲۲٦٩ وابن ماجه في السنن ١٣٦٧/٢ حديث رقم ٤٠٨٤ والبيهقي في دلائل النبوة ٥١٦/٦ " ترجمہ : حضرت ثوبان کہتے ہیں کہ رسول اللہ میا علیم نے ارشاد فرمایا: " جب ایسے سیاہ جھنڈوں کو دیکھو جو خراسان کی جانب آئے ہوں تو تم ان کا متقبال کرنا کیونکہ اس میں اللہ تعالی کے خلیفہ حضرت مہدی ہوں گئے۔اس روایت کو امام احمد نے اور دلائل النوۃ میں بیہقی نے نقل کیا ہے۔تشریح : قوله: اذا رايتم۔۔۔۔۔۔۔فاتوها : رايتم : اس سے عام خطاب مقصود ہے اور " رؤية " سے رویت بصری مراد ہے۔ممکن ہے کہ مواد خراسان کی جانب سے آنے والے مسلمانوں کے لشکروں کی کثرت سے کنایہ ہو، بظاہر یہ حارث اور منصور کے لشکر ہونگے۔فأتوها: ضمير منصوب" الرايات " کی طرف راجع ہے، یعنی ان جھنڈوں کی طرف متوجہ ہو جاتا اور ان کے حاملین کا استقبال کرنا اور ان لشکروں کے امیر کا حکم قبول کرنا۔قوله فان فيها خليفة الله المهدى