مسیح اور مہدیؑ — Page 293
مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 293 ، خاص نشانات کا ظہور اور تیرھویں صدی 102 سے مراد تیرھویں صدی میں نشانات کا ظہور ہے۔( حاشیہ السندی جلد 2 صفحہ 502 دارالجیل بیروت ) حافظ علامہ غلام حلیم صاحب، تحفہ اثنا عشریہ مطبوعہ 1303ھ میں فرماتے ہیں کہ بارہ سو سال بعد قیامت کی علامات اور بڑے نشانات کا ظہور ہوگا۔( تحفہ اثنا عشریہ صفحہ 275 مطبع منشی نولکشور لکھنو ) واقعاتی شہادت کے مطابق بھی یہ خاص نشانات حیرت انگیز طور پر تیرہویں صدی ہجری میں پورے ہوئے جن میں خاص طور پر صلیب کا غلبہ، مغرب سے علم کے ) سورج کا طلوع ہونا، تیز رفتار جدید سواریوں کی ایجاد، اونٹوں وغیرہ کی سواری کا متروک ہو جانا، مسلمانوں کے زوال اور پستی کے عروج کے بعد اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا آغاز عالمی جنگیں ، کثرت زلازل، قحط، طاعون ، دمدار ستارہ اور رمضان میں چاند سورج گرہن کے نشانات شامل ہیں۔ان نشانات کا تفصیلی ذکر صفحہ 312 تا 317 میں آ رہا ہے۔یہاں دمدار ستارہ کا مختصر ذکر پیش ہے۔دمدار ستارے جسامت میں چند سو میٹر سے 40 کلو میٹر تک کے ہوتے ہیں۔جب یہ ستارے نظام شمسی سے گزرتے ہیں تو سورج کی شعاؤں کے اثر سے ان میں بخارات اور ذرات اٹھتے ہیں جو کہ ان کے گرد ایک روشن ہالہ بناتے ہیں۔یہ ہالہ ایک دم کی صورت دکھائی دیتا ہے جس کی وجہ سے انھیں دمدار ستارہ کہا جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود کی زندگی میں دمدار ستارہ ایک سے زائد مرتبہ ظاہر ہوا۔جبکہ 1882 ء (بمطابق 1300ھ میں حضرت مرزا غلام احمد قادیانی کو مامور ( مسیح و مہدی ہونے کا پہلا الہام ہوا۔تذکرہ صفحہ 35) میں ظاہر ہونے والے دمدار ستارہ کو 1882 Great September Comet of کہا جاتا ہے۔یہ گزشتہ ہزار سال کا سب سے غیر معمولی Comet کہلاتا ہے۔(The Great September Comet of 1882 by R۔C Kapoor from Journal of Astronomical History and Heritage Page 353-354-365) 103 ایک اور حدیث میں بھی مہدی کا زمانہ یہ بیان کیا گیا ہے کہ: ” جب ایک ہزار دوسو چالیس سال گزر جائیں گے تو اللہ تعالیٰ مہدی کو ظاہر کرے گا۔( النجم الثاقب جلد نمبر 2 صفحہ 209 مطبع احمدی پٹنہ مغلپورہ) 104 حضرت علامہ عبد الوہاب شعرانی (متوفی : 973ھ) نے الیواقیت و الجواهر (مطبوعہ مصر 1305ھ ) میں امام مہدی کے ظاہر ہونے کا ذکر کرتے ہوئے اُن کا سن پیدائش 255 سال