مسیح اور مہدیؑ

by Other Authors

Page 225 of 708

مسیح اور مہدیؑ — Page 225

مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 225 عالم اسلام کا زوال اور ظہور مہدی حضرت عیسی کو دیا گیا تھا جس کے معنے ہیں خدا کو چھونے والا اور خدائی انعام میں سے کچھ لینے والا۔اور اس کا خلیفہ اور صدق اور راستبازی کو اختیار کرنے والا۔اور مہدی ایک لقب ہے جو حضرت محمد مصطفی ﷺ کو دیا گیا تھا جس کے معنے ہیں کہ فطرتا ہدایت یافتہ اور تمام ہدایتوں کا وارث اور اسم ہادی کے پورے عکس کا محل۔سو خدا کے فضل اور رحمت نے ان دونوں لقبوں کا مجھے وارث بنا دیا۔“ گورنمنٹ انگریزی اور جہاد روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 28 ایڈیشن 2008) حضرت بانی جماعت احمدیہ نے اپنی آمد کا مقصد ” نام کے مسلمانوں کو حقیقی مسلمان بنانا بیان کرتے ہوئے فرمایا: چو دور خسر وی آغاز کردند مسلماں را مسلمان باز کردن دور خسروی سے مراد اس عاجز کا عہد دعوت ہے مگر اس جگہ دنیا کی بادشاہت مراد نہیں بلکہ آسمانی بادشاہت مراد ہے جو مجھ کو دی گئی۔خلاصہ معنی اس الہام کا یہ ہے کہ جب دور خسروی یعنی دور مسیحی جو خدا کے نزدیک آسمانی بادشاہت کہلاتی ہے ششم ہزار کے آخر میں شروع ہوا جیسا کہ خدا کے پاک نبیوں نے پیشگوئی کی تھی تو اس کا یہ اثر ہوا کہ وہ جوصرف ظاہری مسلمان تھے وہ حقیقی مسلمان بننے لگے جیسا کہ اب تک چار لاکھ کے قریب بن چکے ہیں۔اور میرے لئے یہ شکر کی جگہ ہے کہ میرے ہاتھ پر چار لاکھ کے قریب لوگوں نے اپنے معاصی اور گناہوں اور شرک سے تو بہ کی۔اور ایک جماعت ہندوؤں اور انگریزوں کی بھی مشرف بہ اسلام ہوئی۔“ ،، تجلیات الهیه روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 397 ایڈیشن 2008) حضرت مسیح موعود نے ایک ایسی پاک جماعت کی بنیاد ڈالی جس کے بارے میں علامہ اقبال جیسے مفکر کو بھی اعتراف کرنا پڑا کہ: اسلامی سیرت کا ٹھیٹھ نمونہ اس جماعت کی شکل میں ظاہر ہوا ہے جسے فرقہ قادیانی کہتے ہیں۔“ ( ملت بیضا پر ایک عمرانی نظر صفحہ 18 مطبوعہ اقبال اکیڈمی لاہور ) 83۔