مسیح اور مہدیؑ — Page 171
مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 171 مثیل ابن مریم 11 - مثیل ابن مریم قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَامِنُ بَنِي آدَمَ مَوْلُودٌ إِلَّا يَمُسُّهُ الشَّيْطَانُ حِيْنَ يُوْلَدُ فَيَسْتَهِلُ صَارِحًا مِنْ مَسَ الشَّيْطَانِ غَيْرَ مَرْيَمَ وَابْنَهَا ثُمَّ يَقُولُ اَبُوهُرَيْرَةَ وَ إِنِّي أُعِيذُ هَابِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّحِيمِ۔( صحیح بخاری اردو جلد 2 مترجم مولانا وحید الزماں صفحہ 245 حذیفہ اکیڈمی لاہور ) ترجمہ: حضرت ابوھریر کا بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ بنی نوع انسان کا پیدا ہونے والا کوئی بچہ نہیں سوائے مریم اور اس کے بیٹے کے پیدائش کے وقت شیطان اسے مست کرتا اور چھوتا ہے اور وہ اس مستِ شیطان کی وجہ سے چیخ مار کر آواز نکالتا ہے۔پھر حضرت ابوھریرہ یہ آیت پڑھتے تھے وَإِنِّی اُعِيْدُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّحِيمِ که اے خدا میں (اپنی) اس ( بچی مریم ) اور اس کی اولا د کوراندے ہوئے شیطان کے شر سے تیری پناہ میں دیتی ہوں۔تشریح بخاری اور مسلم نے اس حدیث کی صحت پر اتفاق کرتے ہوئے اسے بیان کیا ہے۔اگر اس حدیث کا محض ظاہری مطلب لیا جائے تو سوائے مریم اور ابن مریم کے کوئی بچہ حتی کہ کوئی معصوم نبی بھی شیطان کے چھونے یعنی میں شیطان سے پاک قرار نہیں دیا جاسکتا لہذا یہ معنی کسی طرح بھی درست نہیں ہو سکتے۔اسی وجہ سے مشہور مفسر علامہ زمخشری نے لکھا ہے کہ اگر اس حدیث کو صحیح مانا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ سوائے مریم اور ابن مریم کے اور ان لوگوں کے جو مریم یا ابن مریم جیسی حالت یا صفت رکھتے ہوں دعا اور مجاہدہ کے نتیجہ میں انہیں بھی یہ عصمت حاصل ہو سکتی ہے۔(تفسير الكشاف الجزء الثالث صفحه 170 دار المعرفة بيروت ) 58 دراصل اس حدیث میں تمام انبیاء میں سے بطور خاص حضرت عیسی علیہ السلام اور ان کی والدہ حضرت مریم کا نام بطور مثال بیان کرنے میں یہ حکمت ہے کہ انہیں یہود کے ناپاک الزامات سے