مسیح اور مہدیؑ

by Other Authors

Page 133 of 708

مسیح اور مہدیؑ — Page 133

مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 133 مسیح ناصری اور مسیح محمد ی۔دو شخصیات دو جد اخلیے سن البیا و او در جاه و سوم عکس حوالہ نمبر :42 252 ضیاء القرآن میان کشند ہوں گے یعنی والد کی جانب سے حسنی اور والدہ کی جانب سے حسینی۔واللہ اعلم 3736- حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ تَمَامِ بْنِ بَرِيمَ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَانُ عَنْ قَتَادَا عَنْ أَبِي نَشْرَنَا عَنْ أَن سَعِيدٍ الْخُدْرِي قَالَ قَالَ رَسُولُ الله خلال المَهْدِى مِنِّي أَجْلَى الْجَبْهَةِ أَثْنَى الأَنْفِ يَمْلَأُ الْأَرْضَ قِسْطَا وَ عَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ جَوْرًا وَقُلْمَا يَمْلِكُ سَبْعَ سِنِينَ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: حضرت مہدی رضی اللہ عنہ میری اہل بیت سے ہوں گے۔ان کی پیشانی وسیع اور روشن ہوگی اور ناک اونچی ہوگی۔وہ زمین کو عدل و انصاف سے اسی طرح بھر دیں گے جیسا کہ اسے پہلے ظلم وستم سے بھرا گیا ہوگا اور وہ سات برس تک حکومت کریں گے۔3737- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَن عَنْ قَتَادَةَ عَنْ صَالِحٍ أَي الْخَلِيلِ عَنْ صَاحِب لَهُ عَنْ أَمْ سَلَمَةَ زَوْمِ النَّبِي عَن النَّبِيِّ ﷺ قَالَ يَكُونُ اخْتِلَافُ عِنْدَ مَوْتِ خَلِيفَةٍ فَيَخْرُمُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مَارِ بَا إِلَى مَكَّةَ فَيَأْتِيهِ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ فَيُخْرِجُونَهُ وَهُوَ كَارِنَا فَيُبَايِعُونَهُ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْمَقَامِ وَيُبْعَثُ إِلَيْهِ بَعَثْ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ لَيُخْسَفُ بِهِمْ بِالْبَيِّدَاءِ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ فَإِذَا رَأَى النَّاسُ ذَلِكَ أَتَاهُ أَبْدَالُ الشَّامِ وَعَصَانِبُ أَهْلِ الْعِرَاقِ فَيْهَا بِعُونَهُ بَيْنَ الرَّكْنِ وَالْمَقَامِ ، ثُمَّ يَنْشَأَ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشِ أَخْوَالُهُ كَلْبٌ فَيَبْعَثُ إِلَيْهِمْ بَعْثًا فَيَظْهَرُونَ عَلَيْهِمْ وَذَلِكَ بَعْثُ كَلْبِ وَالْخَيْبَةُ لِمَنْ لَمْ يَشْهَدُ غَنِيمَةَ كَلْبِ فَيَقْسِمُ الْمَالَ وَيَعْمَلُ فِي النَّاسِ بِسُنَةِ نَبِيهِمْ ، وَيُلْقِي الْإِسْلَامُ بِجِرَاتِهِ فِي الْأَرْضِ فَيَلْبَثُ سَبْعَ سِنِينَ ثُمَّ يَتَوَلَى وَيُصَلِّي عَلَيْهِ الْمُسْلِمُونَ قَالَ أَبُو دَاوُد قَالَ بَعْضُهُمْ عَنْ هِشَامٍ تِسْعَ سِنِينَ وَقَالَ بَعْضُهُمْ سَبْعَ سِنِينَ حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ عَنْ هَمَّامٍ عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْحَدِيثِ وَقَالَ تِسْعَ سِنِينَ قَالَ أَبُو دَاوُد و قَالَ غَيْرُ مُعَاذ عَنْ هِشَامٍ تِسْعَ سِنِينَ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَامِمٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَوَّامِ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ إِنِ الْخَلِيلِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ النَّبِيِّ بِهَذَا الْحَدِيثِ وَحَدِيثُ مُعَاذٍ أَتَم ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا: ایک خلیفہ کی موت کے وقت اختلاف رونما ہو گا۔پس اہل مدینہ میں سے ایک آدمی بھاگتے ہوئے مکہ کی طرف نکل آئے گا ( اس خوف سے کہ کہیں اسے خلیفہ نہ بنا لیا جائے ) تو اہل مکہ میں سے کچھ لوگ اس کے پاس آئیں گے اور وہ اسے (امامت کے لیے ) نکال کر لے جائیں گے حالانکہ وہ اسے نا پسند کرے گا اور وہ لوگ رکن ( حجر اسود ) اور مقام ابراہیم کے درمیان اس کی بیعت کریں گے اور پھر اس کی جانب اہل شام میں سے ایک لشکر بھیجا جائے گا اور انہیں مکہ مکرمہ اور مدینہ طیبہ کے درمیان مقام بیداء پر دھنسا دیا جائے گا۔پس جب لوگ اسے دیکھیں گے تو شام کے ابدال اور اہل عراق کی جماعتیں اس کے پاس آئیں گی اور وہ سب حجر اسود اور 1- ایک زمین من الشام ہے۔2 دیگر نسخوں میں بین الركن والمقام کے الفاظ نہیں لگا۔