مشاغل تجارت اور حضرت خدیجہ ؓ سے شادی — Page 25
۲۵ سختی کی زندگی کوکی و صدق سے قبول تا تم پہ ہو ملائکہ عرش کا نزول گھر میں سادگی کا یہ عالم تھا کہ روایت ہے حضور جب وضو فرماتے تو اپنے چادر کے پلو سے چہرہ پونچھ لیتے۔(ترمذی) آپ کو اللہ تعالی نے جون ۹ہ ربیع الاول کے مہینے میں پہلا بیٹا عطا فرمایا۔اس محبت بھرے گھر میں پہلا پھول کھلا آپ کو اللہ تعالیٰ نے بیٹا عطا فرمایا۔بیٹے کا نام قاسم رکھا۔حضرت خدیجہ کے تو پہلے بچے بھی تھے مگر آپ کی یہ پہلی اولاد تھی عرب کے رواج کے مطابق بیٹے کے نام کی نسبت سے آپ کو ابوالقاسم کہا جانے لگا۔قاسم کے بعد پھر بیٹا پیدا ہوا جس کا نام طیب رکھا گیا اور تیسرے بیٹے کا نام طاہر تھا۔رضوان اللہتعالیٰ علیہم اجعین، مگر یہ بیٹے کم سنی میں فوت ہو گئے اسی زمانے میں آپ کو یہ خیال آیا کہ چا ابو طالب ضعیف العمر ہیں اور قحط کی وجہ سے بڑے کنبے کا پیٹ پالنا مشکل ہو رہا ہے۔آپ نے اسی گھر میں پرورش پائی تھی چی فاطمہ بنت اسد کی شفقتیں بھی یاد تھیں۔آپ نے طے کیا کہ چچا کا ہاتھ بٹایا جائے آپ دوسرے چچا عباس کے پاس تشریف لے گئے اور اپنا خیال ظاہر فرمایا کہ چچا کے ایک بیٹے کی کفالت آپ قبول کر لیں اور ایک کو میں اپنے پاس لے آتا ہوں چچا عباس متفق ہو گئے دونوں مل کر چھا ابو طالب کے پاس گئے اور اپنا خیال ظاہر کیا۔آپ کے متفق ہونے پر معفر بن ابو طالب کو چچا عباس ساتھ لے گئے اور آپ چھ سات سال کے علی کو اپنے گھر لے آئے اس طرح اس گھر میں رونق