مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 78 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 78

78 ” میں نے پہلے بھی متواتر جماعت کو توجہ دلائی ہے کہ قوموں کی کامیابی کے لئے کسی ایک نسل کی درستی کافی نہیں ہوتی۔جو پروگرام بہت لمبے ہوتے ہیں وہ اسی وقت کامیاب ہو سکتے ہیں جب کہ متواتر کئی نسلیں ان کو پورا کرنے میں لگی رہیں۔جتن وقت ان کو پورا کرنے کے لئے ضروری ہو اگر اتنا وقت ان کو پورا کرنے کے لئے نہ دیا جائے تو ظاہر ہے کہ وہ کسی صورت میں مکمل نہیں ہو سکتے۔اور اگر وہ مکمل نہ ہوں تو اس کے معنی یہ ہو نگے کہ پہلوں نے اس پروگرام کی تکمیل کے لئے جو محنتیں کوششیں اور قربانیاں کی ہیں وہ بھی سب رائیگاں گئیں۔مثلاً ایک جھونپڑا ہے اس کے بنانے کے لئے مہینہ کا وقت درکار ہے۔اب اگر کوئی شخص پندرہ دن کام کر کے اسے چھوڑ دیتا ہے تو یہ لازمی بات ہے کہ وہ جھونپڑا نا مکمل رہے گا اور رفتہ رفتہ بالکل خراب ہو جائے گا۔اسی طرح اگر ایک مکان ہے جس کی تعمیر کے لئے تین مہینوں کی ضرورت ہے اگر اس پر کوئی شخص مہینہ ڈیڑھ مہینہ خرچ کر کے چھوڑ دیتا ہے تو وہ بھی کبھی مکمل نہیں ہو سکتا اور گو پہلے آدمی سے اس نے زیادہ وقت صرف کیا ہو گا۔مگر جس کام کے لئے وہ کھڑا ہوا تھا وہ چونکہ تین مہینے کا تھا اس لئے باوجود ڈیڑھ مہینہ خرچ کرنے کے وہ ناکام رہے گا۔اس کے مقابلہ میں اگر ایک بہت بڑا محل ہے جو دو تین سال میں تیار ہو سکتا ہے تو اس پر اگر کوئی شخص سال بھی خرچ کر دیتا ہے تو نتیجہ اچھا نہیں نکل سکتا۔وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ پہلے کا جب مہینہ میں کام ختم ہو سکتا تھا اور دوسرے کا تین مہینہ میں تو میں سال بھر کام کر کے بھی اپنے کام کو کیوں ختم نہیں کر سکتا۔اس لئے کہ جو کام اس نے شروع کیا تھا وہ تین سال کی مدت چاہتا تھا۔اگر یہ سال یا دو سال لگاتا بھی ہے اور پھر کام کو چھوڑ دیتا ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس نے اپنے دو سال ضائع کر دیئے۔پھر بعض کام ایسے ہوتے ہیں جو تکمیل کے لئے پندرہ ہیں بلکہ تمہیں سال چاہتے ہیں۔اگر میں تمیں سال میں تکمیل کو پہنچنے والا کام کوئی شخص پندرہ سال کرتا اور پھرا سے چھوڑ دیتا ہے تو وہ کام یقیناً خراب ہو جائے گا۔کیونکہ اس کام کے لئے ہیں یا تمہیں سال کی ضرورت تھی۔اسی طرح بعض کام ایسے ہوتے ہیں جو سینکڑوں سال چاہتے ہیں۔اگر ان سینکڑوں سال چاہنے والے کاموں کو کوئی شخص پچاس ساٹھ یا سو سال کر کے چھوڑ دے تو لا زمادہ خراب ہو جائیں گے۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ نکتہ سکھانے کے لئے اور یہ بتانے کیلئے کہ بعض چیزوں کی تکمیل وقت کے ساتھ مقید ہوتی ہے۔اپنے کاموں کے لئے بھی مختلف اوقات مقرر کر دیئے ہیں۔بعض نادان اعتراض کرتے ہیں کہ جب خدا کن فیکون کہنے والا ہے تو اس کیلئے یہ کیا مشکل ہے کہ وہ ایک سیکنڈ میں تمام کام کرلے۔یہ درست ہے کہ خدا اگر چاہے تو ایک سیکنڈ میں ہی تمام کام کرلے لیکن اگر خدا ایک سیکنڈ میں تمام کام کر دیتا تو انسان میں استقلال کا مادہ پیدا نہ ہوتا اور اس کے سامنے کوئی ایسی مثال نہ ہوتی جس سے وہ سمجھ سکتا کہ استقلال کیا چیز ہے۔مگر اللہ تعالٰی کو دیکھو کوئی کام ایسا ہے جو وہ ہمیں اکیس دن میں کرتا ہے۔مثلاً مرغی کے بچے پیدا کرنے کے لئے تین ہفتے کافی ہوتے ہیں۔پھر کچھ کام ایسے ہوتے ہیں جن کو وہ چھ مہینے میں کرتا ہے جیسے بکری کا بچہ ہے اس کے پیدا کرنے میں اللہ تعالی چھ مہینے لگا دیتا ہے۔پھر کچھ کام ایسے ہیں جن کو وہ نو مہینے میں کرتا ہے جیسے انسان کا بچہ ہے اس کام کو وہ نو مہینے