مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 801 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 801

801 کوششوں میں ایسی برکت ڈالی کہ اب خود انگریز نے تسلیم کیا ہے کہ چار سال کے عرصہ میں پہلے سے دس گنالوگ مسلمان ہو چکے ہیں۔اگر ہمارے نوجوان یورپ اور افریقہ کے عیسائیوں میں تہلکہ مچاسکتے ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ اگر یہاں کوشش کی جائے تو اس جگہ کے عیسائی بھی اسلام کے مقابلہ سے مایوس نہ ہو جائیں۔لارڈ ہیڈلے جو کسی زمانہ میں پنجاب کے گورنر بھی رہ چکے ہیں ، جب وہ واپس گئے تو افریقہ میں سے ہوتے ہوئے لندن گئے۔وہاں پہنچ کر انہوں نے ایک تقریر کی جس میں کہا کہ میں افریقہ میں اتنا بڑا تغیر دیکھ کر آیا ہوں کہ اب میں نہیں کہہ سکتا کہ مسلمان عیسائیت کا شکار ہیں یا عیسائی اسلام کا شکار ہیں۔ہمارے وہ مبلغ جنہوں نے ان علاقوں میں کام کیا، کوئی بڑے تعلیم یافتہ نہیں تھے مگر جب وہ خدا تعالیٰ کا نام پھیلانے کے لئے نکل گئے تو خدا نے ان کے کام میں برکت ڈالی اور اکیلے اکیلے آدمی نے بڑے بڑے علاقوں پر اثر پیدا کر لیا اور انہیں اسلام کی خوبیوں کا قائل کر لیا مگر اب وہ لوگ اس بات کے منتظر ہیں کہ اور آدمی بھی آئیں جو ان علاقوں میں تبلیغ اسلام کا کام سنبھالیں تاکہ اسلام سارے افریقہ میں پھیل جائے اور یہ کام ان نوجوانوں کا ہے جو ابھی وہاں نہیں گئے۔شروع شروع میں تو ایسے نوجوان بھجوائے گئے تھے جنہیں عربی بھی اچھی طرح نہیں آتی تھی مگر رفتہ رفتہ انہوں نے اچھی خاصی عربی سیکھ لی۔مولوی نذیر احمد صاحب جنہوں نے وہیں وفات پائی ہے ، نیر صاحب کے بعد بھجوائے گئے تھے اور بی ایس سی فیل تھے اور عربی بہت کم جانتے تھے مگر پھر انہیں ایسی مشق ہو گئی کہ وہ عربی زبان میں گفتگو بھی کر لیتے تھے اور بڑی بڑی کتابوں کا بھی مطالعہ کر لیتے تھے بلکہ آخر میں تو انہوں نے عربی کی اتنی کتابیں جمع کرلی تھیں کہ جو اعتراض ہو تا اس کا جواب وہ فورا ان کتابوں سے نکال کر پیش کر دیتے۔وہاں مالکیوں کا زور ہے اور وہ لوگ ہاتھ چھوڑ کر نماز پڑھتے ہیں۔انہوں نے کتابوں میں سے نکال کر دکھا دیا کہ امام مالک بھی یہی کہتے ہیں کہ نماز میں ہاتھ باندھنے چاہئیں جس پر وہ لوگ بڑے حیران ہوئے اور انہیں یہ بات تسلیم کرنی پڑی کہ آپ کی بات درست ہے۔اب بھی وہاں سے خط آیا ہے کہ ہمارا ایک مبلغ جو مولوی فاضل ہے اس سے وہاں کے مولویوں نے بحث کی۔وہاں کے علماء عربی خوب جانتے ہیں اور ہمارا یہ مبلغ زیادہ عربی نہیں جانتا تھا مگر چونکہ دل میں ایمان تھا اس لئے مقابلہ کے لئے تیار ہو گیا اور فیصلہ یہ ہوا کہ عربی میں مباحثہ ہو چنانچہ عربی زبان میں مباحثہ ہوا اور نتیجہ یہ ہوا کہ مخالف مولوی سب بھاگ گئے اور انہوں نے کہا کہ ہم احمدیوں سے بحث نہیں کر سکتے۔یہ لوگ تو پاگل ہیں جنہیں ہر وقت مذہبی باتیں کرنے کا ہی جنون رہتا ہے۔تو یہ خیال نہیں کرنا چاہئے کہ ہمیں کچھ آتا نہیں۔جب انسان خدا تعالیٰ کے دین کی تائید کے لئے کھڑا ہو جاتا ہے اور وہ کسی قسم کی قربانی سے بھی دریغ نہیں کرتا تا اللہ تعالی خود اس کی مدد فرماتا ہے اور اس کی مشکلات کو دور فرما دیتا ہے۔خواجہ کمال الدین صاحب کو ہی دیکھ لو۔انہیں نماز پڑھانی نہیں آتی تھی مگر رفتہ رفتہ انہوں نے ایسی قابلیت پیدا کر لی کہ مشہور لیکچرار بن گئے۔مولوی محمد علی صاحب بھی گو ایم اے ایل ایل بی تھے اور کالج کے پروفیسر تھے مگر عربی سے انہیں زیادہ مس نہ تھا لیکن رفتہ رفتہ انہوں نے ایسی ترقی کی کہ قرآن کی تفسیر لکھ ڈالی۔تو جب