مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 763
763 پر چہ لانا چنانچہ وہ ایک پرچہ لے آیا۔میں نے وہ بیان پڑھا اور اسے پڑھتے ہی کہا کہ کوئی پیغامی ایسا نہیں جو یہ بات نہ کہہ دے۔یہ تردید تو نہیں اور نہ ہی میاں عبد المنان نے یہ بیان شائع کر کے اپنی بریت کی ہے۔اس پر ہر ایک پیغامی دستخط کر سکتا ہے کیونکہ اس کا ہر فقرہ پیچ دار طور پر لکھا ہوا ہے اور اسے پڑھ کر ہر پیغامی اور خلافت کا مخالف یہ کہے گا کہ میرا بھی یہی خیال ہے۔غرض قرآن کریم نے واضح کر دیا ہے کہ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُو ايطَانَة مِنْ دُونِكُمْ لَا يَالُونَكُمْ خَبَالاً اے مومنو جو لوگ تمہارے اندر اختلاف پیدا کرنا چاہتے ہیں ، تم ان سے خفیہ میل جول نہ رکھو۔اب دیکھو یہاں دوستی کا ذکر نہیں بلکہ خداتعالی فرماتا ہے ، تم ان سے بطانه نہ رکھو اور بطانہ کے معنے محض تعلق ہوتے ہیں۔اب اگر کوئی ان لوگوں کو گھر میں چھپ کر مل لے اور بعد میں کہہ دے کہ آپ نے یا صد رانجمن احمدیہ نے کب کہا تھا کہ انہیں نہیں ملنا تو یہ درست نہیں ہو گا۔ہم کہیں گے کہ خدا تعالٰی نے تمہارے اندر بھی تو غیرت رکھی ہے۔پھر ہمارے منع کرنے کی کیا ضرورت ہے۔تمہیں خود اپنی غیرت کا اظہار کرنا چاہئے۔اگر تم ہمارے منع کرنے کا انتظار کرتے ہو تو اس کے یہ معنے ہیں کہ تمہیں خود قرآن کریم پر عمل کرنے کا احساس نہیں۔دیکھ لو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو جب لیکھرام نے سلام کیا تو آپ نے یہ نہیں کہا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کے سلام کا جواب دینے سے کب منع فرمایا ہے بلکہ آپ نے سمجھا کہ بے شک اس آیت میں لیکھر ام کا ذکر نہیں لیکن خدا تعالیٰ نے لا یا لونكم خبالا تو فرما دیا ہے کہ تم ایسے لوگوں سے تعلق نہ رکھو جو تمہارے اندر فساد اور تفرقہ پیدا کرنا چاہتے ہیں پس گو اس آیت میں لیکھرام کا ذکر نہیں لیکن اس کی صفات تو بیان کر دی گئی ہیں۔انہی صفات سے میں نے اسے پہچان لیا ہے جیسے کسی شاعر نے کہا ہے:۔بر رنگے کہ خواهی جامه من انداز قدت را پوش شناسم کہ اے شخص تو چاہے کس رنگ کا کپڑا پہن کر آجائے میں کسی دھو کہ میں نہیں آؤں گا کیونکہ میں تیرا قد پہچانتا ہوں۔حضرت مرزا صاحب نے بھی یہی فرمایا کہ اے لیکھرام تو چاہے کوئی شکل بنا کر آجائے قرآن کریم نے تیری صفت بیان کر دی ہے اس لئے میں تجھے تیری صفت سے پہچانتا ہوں۔اللہ تعالٰی نے صاف طور پر فرما دیا ہے کہ لا یالونکم خیالا کہ تمہارے دشمن وہ ہیں جو قوم میں فتنہ پیدا کرنا چاہتے ہیں اس لئے قرآن کریم کی ہدایت کے مطابق میں نے تم سے کوئی تعلق نہیں رکھا۔میں بھی تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ تم نوجوان ہو اور آئندہ سلسلہ کا بوجھ تم پر پڑنے والا ہے۔تمہیں یاد رکھنا چاہئے کہ ہر چیز کی بعض علامتیں ہوتی ہیں اس لئے خالی منہ سے ایک لفظ دہرا دینا کافی نہیں بلکہ ان علامات کو دیکھنا بھی ضروری ہوتا ہے۔دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہی عجیب نکتہ بیان فرما دیا ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ ایک شخص ساری رات اپنی بیوی سے