مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 761 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 761

70 - کیونکہ وہ منافق اور اس کی پارٹی کے لوگ جماعت میں فتنہ اور فساد پیدا کرتے ہیں۔اگر تم سے ان سے مخفی طور پر تعلق رکھتے ہو تو تمہارا عہد وفاداری اتنی حیثیت بھی نہیں رکھتا جتنی حیثیت گدھے کاپاخانہ رکھتا ہے۔گدھے کے پاخانہ کی تو کوئی قیمت ہو سکتی ہے کیو نکہ وہ روڑی کے طور پر کام آسکتا ہے لیکن تمہار ا عہد وفاداری خدا تعالی کے نزد یک روڑی کے برابر بھی حیثیت نہیں رکھتا اور وہ اسے قبول نہیں کرے گا۔پس یاد رکھو کہ ایمان شیشہ سے بھی زیادہ نازک چیز ہے اور اس کی حفاظت کے لئے غیرت کی ضرورت ہے۔جس شخص کے اندر ایمانی غیرت نہیں وہ منہ سے بے شک کہتا ر ہے کہ میں وفادار ہوں لیکن اس کے اس عہد وفاداری کی کوئی قیمت نہیں۔مثلاً اس وقت تمہارے اندر ایک شخص بیٹھا ہوا ہے وہ سمجھتا ہے کہ ہمیں اس کی منافقت کا پتہ نہیں۔وہ ہمیشہ مجھے لکھا کرتا ہے کہ آپ مجھ سے کیوں خفا ہیں۔میں نے تو کوئی قابل اعتراض فعل نہیں کیا حالانکہ ہم نے اس کا ایک خط پکڑا ہے جس میں اس نے لکھا ہے کہ خلیفہ جماعت کا لاکھوں روپیہ کھا گیا ہے اور لاکھوں روپیہ اس نے اپنے بھائیوں اور رشتہ داروں کو کھلایا ہے۔اس نے سمجھا کہ میرے خط کو کون پہچانے گا۔اسے یہ پتہ نہیں تھا کہ آج کل ایسی ایجادیں نکل آئی ہیں کہ بغیر نام کے خطوط بھی پہچانے جاسکتے ہیں چنانچہ ایک ماہر جو یورپ سے تحریر پہنچانے کی بڑی اعلیٰ درجہ کی تعلیم حاصل کر کے آیا ہے ہم نے وہ خط اسے بھیج دیا اور چونکہ ہمیں شبہ تھا کہ اس تحریر کا لکھنے والا وہی شخص ہے اس لئے ایک تحریر اسے بغیر بتائے اس سے لکھوالی اور وہ بھی اس خط کے ساتھ بھیج دی۔اس نے علوم جدیدہ کے مطابق خط پہچاننے کی پینتیس جگہ بتائی ہیں جو ماہرین نے بڑا غور کرنے کے بعد نکالی ہیں اور انہوں نے بتایا ہے کہ لکھنے والا خواہ وہ کتنی کوشش کرے کہ اس کا خط بدل جائے ، یہ پینتیں جگہیں نہیں بدلتیں چنانچہ اس نے دونوں تحریروں کو ملا کر دیکھا اور کہا کہ لکھنے والے کی تحریر میں پینتیس کی پینتیس دلیلیں موجود ہیں اس لئے یہ دونوں تحریریں سو فی صدی ایک ہی شخص کی لکھی ہوئی ہیں اور وہ شخص بار بار مجھے لکھتا ہے کہ آپ خواہ مخواہ مجھ سے ناراض ہیں۔میں نے کیا قصور کیا ہے۔میں نے تو کچھ بھی نہیں کیا۔اس بیوقوف کو کیا پتہ ہے کہ اس کی دونوں تحریریں ہم نے ایک ماہر فن کو دکھائی ہیں اور ماہر فن نے بڑے غور کے بعد جن پینتیس جگہوں کے متعلق لکھا ہے کہ وہ کبھی نہیں بدلتیں ، وہ اس کی تحریر میں نہیں بدلیں۔وہ شخص غالبا اب بھی یہاں بیٹھا ہو گا اور غالبا کل یا پرسوں مجھے پھر لکھے گا کہ میں تو بڑا وفادار ہوں۔آپ خواہ مخواہ مجھ پر بد ظنی کر رہے ہیں میں نے تو کچھ بھی نہیں کہا حالا نکہ اس نے ایک بے نام خط لکھا اور وہ خط جب ماہر فن کو دکھایا گیا اور اس کی ایک اور تحریر اسے ساتھ بھیجی گئی جو اس سے لکھوائی گئی تھی تو اس ماہر فن نے کہا کہ یہ دونوں تحریریں اسی شخص کی ہیں۔پس خالی عہد کوئی حقیقت نہیں رکھتا جب تک کہ اس کے ساتھ انسان ان باتوں کو بھی مدنظر نہ رکھے جن کے متعلق خدا تعالٰی نے حکم دیا ہے کہ وہ نہ کی جائیں۔عبد المنان کو ہی دیکھ لو۔جب وہ امریکہ سے واپس آیا تو میں نے مری میں خطبہ پڑھا اور اس میں میں نے وضاحت کر دی کہ اتنے امور ہیں، وہ ان کی صفائی کر دے تو ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔وہ یہاں تین ہفتے بیٹھا رہا لیکن اس کو اپنی صفائی پیش کرنے کی توفیق نہ ملی صرف اتنا لکھ دیا کہ میں تو آپ کا وفادار