مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 753 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 753

753 اگر جماعت نے قیامت تک چلنا ہے تو ہمیں بہر حال اپنے آپ کو ان ذمہ داریوں کے اٹھانے کے لئے تیار کرنا ہو گا جو ہم پر عائد ہوتی ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اللہ تعالٰی کا کام پورا ہو کر رہے گا۔اگر تم اس کام کو سرانجام نہ دو گے تو اللہ تعالیٰ کسی اور ملک کے افراد کو اس کام کے لئے کھڑا کر دے گا لیکن اگر بیرونی ممالک کے افراد نے یہ کام سرانجام دیا تو اس سے مجھے اتنی خوشی نہیں ہو سکتی جتنی تمہاری وجہ سے خوشی ہو سکتی ہے۔تم میرے حقیقی بیٹے تو نہیں ہو لیکن اس قرب کی وجہ سے جو مجھے تم سے ہے ، تم مجھے دوسروں سے زیادہ عزیز ہو۔اگر بیرونی ممالک کے نوجوان آگے آگئے تو بے شک یہ ان کے لئے اور ان کے والدین کے لئے بڑی خوشی اور برکت کا موجب ہو گا لیکن تم اس سے محروم رہ جاؤ گے۔پس تم ان امور پر غور کرو اور مجھے بتاؤ کہ تم نے اس بارہ میں غور کر کے کیا حل تلاش کیا ہے۔کیا تم نے اپنی اصلاح کرلی ہے۔کیا تم نے اپنے اندر دعاؤں کی عادت پیدا کرلی ہے۔کیا تم اور دوسرے نوجوانوں میں نماز کی پابندی اور دین کی خدمت کی رغبت پیدا ہو گئی ہے۔کیا تمہیں اس بات کی تحریک ہو گئی ہے کہ تم مختلف مسائل کے متعلق علمی کتابیں تصنیف کرو۔ہمیں شرم محسوس ہوتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ کئی ضروری باتیں مسلمانوں کی تصنیف کردہ کتب میں نہیں ملتیں لیکن عیسائی مصنفین کی کتب میں ان کا ذکر مل جاتا ہے۔تفسیر لکھتے ہوئے میں نے بعض باتوں کی تحقیق کی تو مجھے معلوم ہوا کہ ان کا ذکر ہماری تفسیروں میں نہیں لیکن عیسائیوں نے ان کا ذکر کیا ہوا ہے۔گویا اسلام کے تباہ کرنے والے لوگوں نے تو ہماری کتابیں پڑھیں لیکن خود مسلمانوں نے ان کا مطالعہ نہیں کیا۔پس تم علوم کی طرف توجہ کرو اور دنیا کے سامنے نئی چیزیں پیش کرو اور یاد رکھو کہ زمانہ کی نئی رو اور نئی ضرورتوں کے ساتھ تعلق رکھنا نہایت ضروری ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دیکھ لو ، آپ نے باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی تھی لیکن آپ کی کتب کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہو تا ہے کہ آپ نے جس قدر انکشافات فرماتے ہیں ، وہ دنیا کی نئی رو اور ضرورت کے مطابق ہیں۔پس تم بھی زمانہ کی رو اور ضرورت کو ملحوظ رکھو اور یورپین مصنفین کی کتب کا مطالعہ کرو اور دیکھ لو کہ ان کے دماغ کس طرف جار ہے ہیں۔اگر تم نے اس طرح کام کرنا شروع کر دیا تو تم دیکھو گے کہ خدا تعالیٰ تمہارے کاموں میں کس طرح برکت ڈالتا ہے اور سلسلہ کا کام کس طرح چلتا ہے لیکن یاد رکھو تمہاری کتابیں حقیقی طور اس وقت مفید کہلائیں گی جب خود عیسائی مصنفین یہ لکھیں کہ ہمیں اس وقت جو مشکلات پیش آرہی ہیں ، ان کا حل ہمیں انہی کتابوں میں ملا ہے"۔فرموده ۲۷ جنور کی ۱۹۵۶ء مطبوعه الفضل فروری ۱۹۵۶ء)