مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 739 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 739

739 خدمت دین کے لئے آگے آنے کی تلقین حضرت مولانا عبد الرحیم درد صاحب کی وفات کے موقعہ پر حضور نے ایک خطبہ جمعہ میں نوجوانوں کو اس طرف توجہ دلائی کہ وہ آگے آئیں اور ان کی جگہ لینے اور خدمت دین کے لئے اپنے آپ کو پیش کریں۔پس میں نوجوانوں کو کہتا ہوں کہ وہ دین کی خدمت کے لئے آگے آئیں اور صرف آگے ہی نہ آئیں بلکہ اس ارادہ سے آگے آئیں کہ انہوں نے کام کرنا ہے۔گو حضرت خالد بن ولید نو جوان آدمی تھے ، حضرت عمرؓ نے آپ کی جگہ حضرت ابو عبیدہ بن الجراح کو کمانڈر انچیف مقرر کر دیا۔اس وقت حضرت خالد بن ولید کی پوزیشن ایسی تھی کہ حضرت ابو عبیدہ بن الجراح نے خیال کیا کہ اس وقت ان سے کمانڈ لینا مناسب نہیں۔حضرت خالد بن ولید کو اپنی برطرفی کا کسی طرح علم ہو گیا۔وہ حضرت ابو عبیدہ بن الجراح" کے پاس گئے اور کہا کہ آپ کے پاس میری بر طرفی کا حکم آیا ہے لیکن آپ نے ابھی تک اس حکم کو نافذ نہیں کیا۔حضرت ابو عبیدہ بن الجراح نے کہا۔خالد تم نے اسلام کی بہت بڑی خدمت کی ہے۔اب بھی تم خدمت کرتے چلے جاؤ۔خالد نے کہا یہ ٹھیک ہے لیکن خلیفہ وقت کا حکم ماننا بھی ضروری ہے۔آپ مجھے بر طرف کر دیں اور کمانڈر انچیف کا عمدہ خود سنبھال لیں۔میرے سپرد آپ چپڑاسی کا کام بھی کر دیں گے تو میں اسے خوشی سے کروں گا لیکن خلیفہ وقت کا حکم بهر حال جاری ہونا چاہئے۔حضرت ابو عبیدہ بن الجراح نے کہا کمان تو مجھے لینی ہی پڑے گی کیونکہ خلیفہ وقت کی طرف سے یہ حکم آچکا ہے لیکن تم کام کرتے جاؤ۔خالہ نے کہا آپ حکم دیتے جائیں ، میں کام کرتا جاؤں گا چنانچہ بعد میں ایسے مواقع بھی آئے کہ جب ایک ایک مسلمان کے مقابلہ میں سوسو عیسائی تھا لیکن خالد نے ہمیشہ یہی مشورہ دیا کہ آپ ان کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لئے تیار رہیں۔خدا تعالیٰ کے اس وعدہ پر یقین رکھو کہ اسلام اور احمدیت نے دنیا پر غالب آنا ہے۔اگر یہ فتح تمہارے ہاتھوں سے آئے تو رسول کریم کی شفاعت تمہارے لئے وقف ہو گی کیونکہ تم اسلام کی کمزوری کو قوت سے اور اس شکست کو فتح سے بدل دو گے۔خدا تعالیٰ کے گاگو قرآن کریم میں نے نازل کیا ہے لیکن اس کو دنیا میں قائم ان لوگوں نے کیا ہے۔پس اس کی برکات تم پر ایسے رنگ میں نازل ہوں گی کہ تم اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرو گے اور وہ تمہاری اولاد کو بھی ترقیات بخشے گا"۔ا فرم۱۹۰۰۰ سمبر ۱۹۵۵، مطبوع الفضل ۱۸، سمبر ۱۹۵۵ء)