مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 738
738 تک اس نور کو جو تمہارے سپرد کیا گیا ہے ، قائم رکھو اور محمدی نور کو دنیا میں پھیلاتے جاؤ یہاں تک کہ ساری دنیا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ پڑھنے لگ جائے اور یہ دنیا بدل جائے اور خدا تعالیٰ کی بادشاہت جو آسمان پر ہے زمین پر بھی آجائے۔میں بیمار ہوں زیادہ لمبی تقریر نہیں کر سکتا اس لئے میں مختصری دعا کر کے رخصت ہو جاؤں گا۔میں نے اپنی مختصر تقریر میں خدام کو بھی نصیحت بیان کر دی ہے اور انصار اللہ کو بھی۔مجھے امید ہے کہ دونوں میری ان مختصر باتوں کو یاد رکھیں گے۔اپنے اپنے علاقوں میں ایسے اعلیٰ نمونے پیش کریں گے کہ لوگ ان کے نمونے دیکھ کرہی احمدیت میں داخل ہونے لگ جائیں۔مجھے تو یہ دیکھ کر گھبراہٹ ہوتی ہے کہ تحریک جدید کا چندہ دو تین لاکھ روپے ، سالانہ ہوتا ہے اور وہ بھی بڑا زور لگا لگا کر حالا نکہ کام کے لحاظ سے دو تین کروڑ بھی تھوڑا ہے۔صدر انجمن احمدیہ کا سالانہ چندہ دس گیارہ لاکھ روپیہ ہوتا ہے حالانکہ کام کے پھیلاؤ کو تو جانے دو جو صدر انجمن احمدیہ کے ادارے ہیں ان کو بھی صحیح طور پر چلانے کے لئے تھیں، چالیس لاکھ روپیہ چندہ ہونا چاہئے مگر تیں ' چالیس لاکھ چندہ تو تبھی ہو گا جب جماعت چار پانچ گنے زیادہ بڑھ جائے مگر اب تو ہمارے مبلغ ایسے پست ہمت ہیں کہ جب کسی مبلغ سے پوچھا جائے کہ تبلیغ کا کیا حال ہے تو وہ کہتا ہے جماعت خدا تعالیٰ کے فضل سے ترقی کر رہی ہے۔اس سال جماعت میں دو آدمی اور شامل ہو گئے ہیں۔اگر تبلیغ کی یہی حالت رہی تو کسی ایک ملک میں دو لاکھ احمد کی بنانے کے لئے ایک لاکھ سال چاہئیں۔پس دعائیں کرو اور خدا تعالیٰ کے حضور اتنا گڑ گڑاؤ اور اتنی کوششیں کرو کہ اللہ تعالیٰ کے فرشتے آسمان سے تمہاری مدد کے لئے اتر آئیں۔انسانی زندگیاں محدود ہیں مگر ہمارا خدا ازلی ابدی خدا ہے اس لئے اگر وہ یہ بوجھ جو ہم نہیں اٹھا سکتے آپ اٹھالے تو فکر کی کوئی بات نہیں۔جب تک ہم یہ کام انسان کے ذمہ سمجھتے ہیں تب تک فکر رہے گا کیونکہ انسان تو کچھ مدت تک زندہ رہے گا پھر فوت ہو جائے گا مگر خد اتعالیٰ خود اس بوجھ کو اٹھالے تو فکر کی کوئی بات نہیں۔یہ اسی کا کام ہے اور اسی کو تجتا ہے اور جب خدا تعالیٰ خود اس بوجھ کو اٹھا لے گا تو پھر اس کے لئے زمانہ کا کوئی سوال نہیں رہے گا کیونکہ خدا تعالیٰ کے ساتھ صدیاں تعلق نہیں رکھتیں۔ان کا تعلق تو ہمارے ساتھ ہے ورنہ خدا تعالیٰ تو ازلی ابدی خدا ہے۔پس دعائیں کرو کہ اللہ تعالیٰ تم کو بھی اور مجھے بھی توفیق دے کہ ہم ثواب حاصل کریں لیکن جو اصل چیز ہے وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ یہ بوجھ خود اٹھا لے تاکہ آئندہ ہمارے لئے کوئی فکر کی بات نہ رہے"۔فرموده ۱۸ نومبر ۱۹۵۵ء مطبوعه الفضل ۱۵ دسمبر ۱۹۵۵ء)