مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 737 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 737

737 آگیا۔اب وہ فلسطین پر قابض ہیں۔ہمیں اس بات پر غصہ تو آتا ہے اور ہم حکومتوں کو اس طرف توجہ بھی دلاتے ہیں اور خدا تعالیٰ نے توفیق دی تو انہیں توجہ دلاتے رہیں گے کہ اب یہ اسلامی علاقہ ہے یہودیوں کا نہیں اس لئے یہ مسلمانوں کو ملنا چاہئے مگر ہم اس بات کی تعریف کئے بغیر نہیں رہ سکتے کہ یہودیوں نے دو ہزار سال تک اس بات کو یا د رکھا جو دو سری قومیں بعض دفعہ میں سال یا سو سال تک بھی یاد نہیں رکھ سکتیں۔پس یاد رکھو کہ اشاعت دین کوئی معمولی چیز نہیں۔یہ بعض دفعہ جلدی بھی ہو جاتی ہے جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تئیس سال میں ہو گئی اور پھر مزید اشاعت کوئی پچاس سال میں ہو گئی مگر کبھی کبھی یہ سینکڑوں سال بھی لے لیتی ہے جیسے حضرت مسیح علیہ السلام کے زمانہ میں اس نے ایک سو سال کا عرصہ لیا اور کبھی یہ ہزاروں سال کا عرصہ بھی لے لیتی ہے چنانچہ دیکھ لو یہودیوں کا دنیوی نفوذ تو بہت کم عرصہ میں ہو گیا تھا لیکن دوسری قوموں کی ہمدردی انہیں دو ہزار بعد جاکر حاصل ہوئی۔جب لوگوں کو یہ محسوس ہو جاتا ہے کہ کوئی قوم اپنے آثار اور اپنی تعلیمات کو قائم رکھنے کے لئے ہر وقت تیار ہے اور آئندہ بھی تیار رہے گی تو اس قوم کے دشمن بھی اس کے ہمدرد ہو جاتے ہیں۔کیا یہ لطیفہ نہیں کہ عیسائیوں نے ہی یہودیوں کو فلسطین سے باہر نکالا تھا اور اب عیسائی ہی انہیں فلسطین میں واپس لائے ہیں۔دیکھو یہ کیسی عجیب بات ہے۔آج سب سے زیادہ یہودیوں کے خیر خواہ امریکہ اور انگلینڈ ہیں اور یہ دونوں ملک عیسائیوں کے گڑھ ہیں۔فلسطین سے یہودیوں کو نکالا بھی عیسائیوں نے ہی تھا مگروہی آج ان کے زیادہ ہمدرد ہیں گویا ایک لمبی قربانی کے بعد ان کے دل بھی پسیج گئے۔پس ہمیشہ ہی اسلام کی روح کو قائم رکھو۔اس کی تعلیم کو قائم رکھو اور یاد رکھو کہ قومیں نوجوانوں کے کی دینی زندگی کے ساتھ ہی قائم رہتی ہیں۔اگر آنے والے کمزور ہو جائیں تو وہ قوم گر جاتی ہے مگر کوئی انسان یہ کام نہیں کر سکتا صرف اللہ ہی یہ کام کر سکتا ہے۔انسان کی عمر تو زیادہ سے زیادہ ساٹھ ستر اسی سال تک چلی جائے گی مگر قوموں کی زندگی کا عرصہ تو سینکڑوں ہزاروں سال تک جاتا ہے۔دیکھو مسیح علیہ السلام کی قوم بھی دو ہزار سال سے زندہ ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم تیرہ سو سال سے زندہ ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ جب تک دنیا قائم رہے گی یہ بڑھتی چلی جائے گی۔تم بھی ایک عظیم الشان کام کے لئے کھڑے ہوئے ہو پس اس روح کو قائم رکھنا اسے زندہ رکھنا اور ایسے نوجوان جو پہلوں سے زیادہ جوشیلے ہوں پیدا کرنا تمہارا کام ہے۔ایک بہت بڑا کام تمہارے سپرد ہے۔عیسائی دنیا کو مسلمان بنانا اس سے بھی زیادہ مشکل کام ہے جتنا عیسائی دنیا کو یہودیوں کا ہمد رد بنانا کیونکہ عیسائی دنیا کو ہمد رد بنانے میں تو صرف دماغ کو فتح کیا جاتا ہے لیکن عیسائیوں کو مسلمان بنانے میں دل اور دماغ دونوں کو فتح کرنا پڑے گا اور یہ کام بہت زیادہ مشکل ہے۔پس دعاؤں میں لگے رہو اور اپنے کام کو تا قیامت زندہ رکھو۔محاورہ کے مطابق میرے منہ سے " تا قیامت" کے الفاظ نکلتے ہیں لیکن میں کہتا ہوں " تا قیامت " بھی درست نہیں۔قیامتیں کئی قسم کی ہوتی ہیں۔پس میں تو کہوں گا کہ تم اسے ابدی زمانہ تک قائم رکھو کیونکہ تم ازلی او ر ابدی خدا کے بندے ہو اس لئے ابد