مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 732 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 732

732 بچائے لیکن اس عذاب کے وقت میں تم کو جو خدمت کی توفیق ملی ہے تو یہ تو مسکرانے والی بات ہے۔بہر حال خدمت کی توفیق ملنے کے لئے ہمیشہ دعائیں کرتے رہو اور جب کسی شکل میں بھی ملک پر کوئی مصیبت آئے سب سے آگے اپنی جان کو خطرہ میں پیش کرو تاکہ دنیا محسوس کرے کہ تم دنیا کے لئے ایک ستون ہو اور تمہارے ذریعہ سے ملک کی چھت قائم ہے۔اگر تم اپنے اندر تغیر پیدا کر لو گے تو اللہ تعالٰی بھی خوش ہو گا ، تمہارے اہل ملک بھی خوش ہوں گے اور ملک بھی ترقی کرے گا اور لوگوں کے دلوں سے تمہاری دشمنیاں نکل جائیں گی اور تمہاری محبتیں لوگوں کے دلوں میں پیدا ہو جائیں گی۔پس خدمت کرو اور کرتے چلے جاؤ۔تمہار ا نام خدام الاحمدیہ ہے۔خدام احمدیہ کے یہ معنی نہیں کہ تم احمدیت کے خادم ہو۔خدام احمدیہ کے معنے ہیں تم احمدی خادم ہو۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں سَيْدُ القَوْمِ خَادِمُهُم قوم کا سردار ان کا خادم ہوتا ہے۔اگر تم واقع میں بچے احمدی بنو گے اور بچے خادم بھی بنو گے تو تھوڑے دنوں میں ہی خدام کو سید بنادے گا۔ہر شخص تمہارا ادب اور احترام کرے گا اور لوگ سمجھیں گے کہ ملک کی نجات ان کے ساتھ وابستہ ہے۔دیکھو یہ کس طرح اپنی جانوں کو خطرہ میں ڈال کر ملک کی خدمت کرتے رہتے ہیں۔سو اپنے اس مقام کو ہمیشہ یاد رکھو اور ہمیشہ یہ کوشش کرتے رہو کہ تمہارے ذریعہ سے دنیا کا ہر غریب اور امیر فائدہ اٹھائے۔نہ امیر سمجھے تم اس کے دشمن ہو نہ غریب سمجھے کہ تم اس کے دشمن ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ کے غریب بھی بندے ہیں اور امیر بھی بندے ہیں۔ہزاروں باتیں ایسی ہوتی ہیں کہ ان میں امیر بھی خدمت کے محتاج ہوتے ہیں اور ہزاروں مواقع ایسے آتے ہیں کہ غریب بھی خدمت کے محتاج ہوتے ہیں۔تم دونوں کی خدمت کرو کیونکہ احمدیت غریب اور امیر میں کوئی فرق نہیں کرتی۔بالشویک غریبوں کی خدمت کرتے ہیں اور کیپٹلسٹ امیروں کی خدمت کرتے ہیں۔تم خدام الاحمدیہ ہو۔تمہارا کام یہ ہے کہ امیر مصیبت میں ہو تو اس کی خدمت کرو یہاں تک کہ ہر فرد بشریہ سمجھے کہ اللہ تعالیٰ نے تم کو اس کی نجات کا ذریعہ بنا دیا ہے پھر اللہ تعالٰی کے فضل سے ہر قسم کی قومی ترقیات تم حاصل کرو گے اور اللہ تعالی کی برکتیں تم پر نازلی ہوں گی اور یاد رکھو کہ جہاں جہاں جاؤ خدام کی تعداد بڑھانے کی کوشش کرو۔میرا اندازہ یہ ہے کہ تمام احمدیوں کا چالیس فی صدی خدام ہونے چاہئیں۔سو اپنی جماعت کو جمعہ کے دن اور عید کے دن دیکھو کہ کتنی تھی اور پھر دیکھو کہ کیا اس کا چالیس فی صدی خدام ہیں۔اگر نہیں ہیں تو ہر ایک کے پاس جاؤ اور اس کو تحریک کرو کہ وہ بھی آئے اور خدام میں شامل ہو۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ تم کو بچے طور پر خدام الاحمدیہ بننے کی توفیق دے کیونکہ ملک کو خدام الاحمدیہ کی ضرورت ہے۔جیسے میں نے بتایا ہے خدام الاحمدیہ جب ہم نے نام رکھا تھا تو اس کے یہ معنے نہیں تھے کہ تم احمدیوں کے خادم ہو۔اگر تم یہ معنی کرو گے تو بڑی غلطی کرو گے اور ہم پر ظلم کرو گے۔خدام الاحمدیہ سے مراد تھا، احمدیوں میں خدمت کرنے والا گروہ۔تم خادم تو دنیا کے ہر انسان کے ہو لیکن ہو احمدیوں میں سے خادم اس لئے اس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ تم احمدیوں کی خدمت کرو بلکہ مطلب یہ تھا کہ احمدی سٹینڈرڈ کے مطابق خدمت کرو چنانچہ دیکھ لو لاہور میں طوفان آیا ، مکان گرے تو اس