مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 729 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 729

729 جواب تو دیئے گئے مگر میں سمجھتا ہوں کہ کچھ میں بھی اس بارہ میں کہوں۔تو کل کے معنے ہوتے ہیں ، انسان اپنی بات خدا کے سپرد کر دے مگر مسلمانوں میں اس لفظ کا بڑا غلط استعمال ہوا ہے۔خدا تعالیٰ کے سپرد کر دینے کے تو یہ معنے تھے کہ انسان خدا تعالیٰ کے بنائے ہوئے قاعدہ کے مطابق چلے۔اللہ تعالیٰ نے ہم کو ہاتھ پیر بھی دیئے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں دماغ بھی دیا ہے۔دنیوی سامان بھی دیئے ہیں۔ایسی صورت میں خدا کے سپرد کرنے کے یہی معنے ہیں کہ جو کچھ خدا نے جس کام کے لئے دیا ہے اس کو ہم استعمال کریں۔پس تو کل کا پہلا مقام یہ ہے کہ جو کچھ خدا تعالیٰ نے ہم کو دیا ہے، جسمانی ہو یا مالی ہو یا اخلاقی ہو اس کو ہم زیادہ سے زیادہ استعمال کریں۔اس کے بعد جو کمی رہ جائے وہ خدا کے سپرد کر دیں اور یقین رکھیں کہ خدا تعالیٰ اس کمی کو ضرور پورا کر دے گا۔جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم کا دستور تھا۔آپ نے بدر کے موقعہ پر صحابہ کی ایک ترتیب قائم کی۔ان کو اپنی اپنی جگہوں پر کھڑا کیا۔انہیں نصیحتیں کیں کہ یوں لڑنا ہے اور اس کے بعد ایک عرشہ پر بیٹھ کر دعا ئیں کرنے لگ گئے۔یہ نہیں کیا کہ صحابہ کو مدینہ چھوڑ جاتے اور بیٹھ کر دعا ئیں کرنے لگ جاتے بلکہ پہلے صحابہ کو لے کر مقام جنگ پر پہنچے پھر ان کو ترتیب دی اور ان کو نصیحتیں کیں کہ یوں لڑنا ہے۔اسکے بعد عرشہ پر بیٹھ گئے اور دعائیں کرنی شروع کر دیں۔یہ تو کل ہے۔ہر وہ شخص جو ان سامانوں سے کام نہیں لیتا جو خدا تعالیٰ نے اس کو بخشے ہیں اور کہتا ہے میں خدا پر چھوڑتا ہوں وہ جھوٹا ہے۔وہ خدا سے تمسخر کرتا ہے اور ہر وہ شخص جو سامانوں سے کام لیتا ہے اور کہتا ہے اب یہ کام میں کروں گا وہ بھی جھوٹا ہے۔وہ خدا پر اعتبار نہیں کرتا۔کام آسان ہوں یا مشکل آخر ان کی کنجی خدا کے اختیار میں ہے۔میں سارے یورپ میں پھرا۔ہر جگہ میں ڈاکٹروں سے یہی پوچھتا تھا کہ بتاؤ مجھے یہ دورہ کیوں ہوا مگر کوئی جواب نہیں دے سکا۔ڈاکٹر یہی کہتے تھے کہ آخر کچھ قدرت کے بھی تو سامان ہوتے ہیں۔ہم ڈاکٹری طور پر آپ کو نہیں بتا سکتے کہ یہ بیماری آپ کو کیوں ہوئی۔ہم یہ سمجھتے ہیں کہ قدرت نے بھی کچھ باتیں اپنے ہاتھ میں رکھی ہوئی ہیں۔کوئی چیز ایسی آگئی کہ اس کی وجہ سے آپ کو یہ دورہ ہو گیا۔تو تو کل کا مفہوم یہ ہے کہ جہاں تک خدا نے تم کو طاقتیں دی ہیں ان کو پورا استعمال کرو بلکہ ایک دنیا دار سے بھی زیادہ استعمال کرو اور اس کے بعد صوفی سے زیادہ خدا پر اعتبار کرو اور یہ کہو کہ جو کمی رہ گئی وہ خداپوری کرے گا اور چاہے انتہائی مایوسی کا عالم ہو پھر بھی ڈٹ کے بیٹھ جاؤ کہ نہیں ، میرا خدا مجھے نہیں چھوڑے گا۔جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غار ثور میں حضرت ابو بکڑ سے فرمایا کہ لا تحزن إن الله مَعْنَا ہمارا کام یہ تھا کہ دشمن کو دھوکا دے کر وہاں سے نکل آتے ہو نکل آتے۔اب دشمن ہمارے سر پر آپہنچا ہے۔اب یہ خدا کا کام ہے کہ وہ ہمیں بچائے سو لا تحزن ان الله معنا ڈرنے کی کوئی بات نہیں۔خدا ہمارے ساتھ ہے۔یہ ہے تو کل۔پورے سامان استعمال کرو اور اس کے بعد خدا پر پورا یقین رکھو اور چاہے کچھ بھی ہو جائے یہ سمجھ لو کہ خدا ہمیں نہیں چھوڑے گا جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم احتیاطیں کرتے تھے۔صحابہ بھی آپ کے پہرے دیتے تھے۔ایک دن ایک دشمن چھپ کر آپ کے سر پر آکھڑا ہوا۔آپ کی ہی تلوار کہیں لٹکی ہوئی تھی۔اس نے