مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 715 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 715

715 نیکیوں میں ایک دوسرے سے بڑھنا مومن کی نشانی ہے مجالس خدام الاحمدیہ میں بہترین کام کرنے اور علم حاصل کر نے کا جو سالانہ مقابلہ ہوا ہے اس کا ذکر کرتے ہوئے حضور نے بتایا۔مجلس لاہور کو خدمت خلق میں نمایاں کام کرنے کی وجہ سے تحسین۔اس مقابلہ کا فیصلہ خدام الاحمدیہ مرکز یہ علاوہ مجالس کی رپورٹوں کے اپنے انسپکٹروں کو بھجواکر کام کا جائزہ لینے کے بعد کیا کرتی ہے۔اس سال اس نے جو فیصلہ کیا ہے اس کی رو سے کراچی کی مجلس اول آئی ہے دوسرے نمبر پر لاہور تیسرے پر راولپنڈی چوتھے نمبر پر گو کھو دال اور پانچویں نمبر پر خانیوال کی مجلس ہے لیکن یہ سفارش کی گئی ہے کہ چونکہ سیلاب کے ایام میں لاہور کی مجلس نے غیر معمولی کام کیا ہے اس لئے باوجود اس کے کہ مجموعی کار گزاری کے لحاظ سے اس کا نمبر کراچی کے بعد آتا ہے۔پھر بھی اس سال علم انعامی لاہور کی مجلس کو دیا جائے“۔فرمایا۔اس میں شک نہیں کہ لاہور کی نیم مردہ جماعت میں اس سال وہاں کی مجلس خدام الاحمدیہ نے زندگی کی رُوح پھونک دی ہے اور اس کا سہر ازیادہ تر وہاں کے قائد محمد سعید احمد صاحب اور ان کے چار پانچ رفقاء کے سر ہے جنہوں نے بڑی محنت سے کام کیا۔گذشتہ سیلاب کے ایام میں نہ صرف یہ کہ غیر معمولی طور پر لاہور کی مجلس نے خدمت خلق کا کام کیا بلکہ اسے غیر معمولی طور پر پبلک میں روشناس بھی کرادیا اور اس لحاظ سے اس کا کام واقعی خاص طور پر تعریف کے قابل ہے لیکن میں یہ رسم نہیں ڈالنا چاہتا کہ علم انعامی اول آنیوالی مجلس کو نہ دیا جائے۔یہ رسم حو صلے کو بڑھانے کی بجائے اسے پست کرنے کا موجب ہو گی۔ہمارے کارکنوں کو یہ مد نظر رکھنا چاہئے کہ جو مجلس اول نمبر ہو۔اسے اوّل نمبر کا ہی انعام دیا جائے۔پس میں باوجود اس کے کہ مرکزی مجلس نے لاہور کو علم انعامی دینے کی سفارش کی ہے یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ علم انعامی حسب قاعدہ کراچی کی مجلس خدام الاحمدیہ کو دیا جائے مگر ساتھ ہی سیلاب کے ایام میں لاہور کی مجلس نے جو کام کیا اس کی تعریف بھی کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ ہر مجلس کام میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتی رہے گی۔“ نیکیوں میں ایک دوسرے سے بڑھنا مو من قوم کی نشانی ہے۔" قرآن مجید نے مومنوں کی شناخت ہی یہ بتائی ہے کہ وہ نیکیوں میں ایک دوسرے سے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں۔یہ صفت جس قوم میں بھی پیدا ہو جائے اسے اتنابلدیہ کر دیتی ہے کہ اس کا قیاس بھی نہیں کیا جا سکتا۔در حقیقت یہی روح ہے جو زندگی کی علامت ہوتی ہے۔جب کسی قوم میں مسابقت کی روح نہ رہے تو خواہ وہ کتنی ہی ترقی یافتہ ہو گر ناشروع کر دیتی ہے اور اگر کسی