مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 709 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 709

709 سے توبہ کرلی ہے۔انہوں نے کہا ہمارے سامنے اس نے کہا ہے کہ میں مرزائیت سے توبہ کرتا ہوں۔وہ کہنے لگا اس نے تمہیں دھوکا دیا ہے۔اب وہ گھر میں بیٹھا استغفار کر رہا ہو گا۔تم پھر اس کے پاس جاؤ اور اس سے کہو کہ ہم تمہاری تو بہ ماننے کے لئے تیار نہیں جب تک تم یہاں اگر ہمارے پیچھے نماز نہ پڑھو۔چنانچہ پھر ہجوم اس کے گھر پہنچا اور کہا کہ ہم اس طرح تمہاری توبہ نہیں مانتے۔تم چلو اور مسجد میں ہمارے ساتھ نماز پڑھو -وہ چونکہ دل میں ایمان رکھتا تھا اور صرف کمزوری کی وجہ سے اس نے منہ سے توبہ کی تھی۔اس لئے جب دوبارہ ہجوم اس کے پاس پہنچا تو خدا نے اسے عقل دے دی اور کہنے لگا کہ دیکھو بھئی جب میں مرزائی تھا تو نماز میں پڑھا کر تا تھا۔شراب سے بچتا تھا۔کنچنیوں کے ناچ گانے میں نہیں جایا کرتا تھا۔جب تم آئے اور تم نے کہا تو بہ کرو تو میں بڑا خوش ہوا کہ مجھے ان مصیبتوں سے نجات ملی۔پس میں نے تو اس خیال سے توبہ کی تھی کہ مجھے اب نماز میں نہیں پڑھنی پڑیں گی ، شراب پیئوں گا اور کنچنیوں کے ناچ گانے میں شامل ہوا کروں گا۔کیونکہ یہ پابندیاں مجھ پر مرزائی ہونے کی حالت میں تھیں، مرزائیت سے توبہ کر کے یہ سب مصیبتیں جاتی رہیں مگر تم ادھر مجھ سے تو بہ کرواتے ہو اور اُدھر وہی کام کرواتے ہو جو مرزائی کیا کرتے ہیں۔پھر یہ تو بہ کیسی ہوئی۔اس پر وہ شرمندہ ہو کر چلے گئے اور انہوں نے سمجھ لیا کہ مولوی کی بات ٹھیک ہے اس نے دل سے توبہ نہیں کی۔اس استقلال کی وجہ ؟ آخر یہ کیا چیز تھی جس نے اتنے فتنہ کے زمانہ میں اکا دُکا احمد نی کو بھی اپنی جگہ قائم رکھا اور جان مال اور عزت کے خطرہ کے باوجود ان کا قدم نہیں ڈگمگایا۔اس کی وجہ یہی تھی کہ وہ سمجھتے تھے ہم ایک مقصد کے پیچھے چل رہے ہیں اور یہ بے مقصد لوگ ہیں۔ہم ان کی خاطر اپنے مقصد کو کس طرح چھوڑ دیں اور اگر ہم چھوڑتے ہیں تو خائب و خاسر ہو جاتے ہیں۔خدام الاحمدیہ کا قیام بھی اسی مقصد کے ماتحت کیا گیا ہے کہ نوجوانوں میں اسلام کی روح کو زندہ رکھا جائے اور انہیں گرنے سے پہچایا جائے۔باغوں میں پھل لگتے ہیں تو اس میں انسانوں کا اختیار نہیں ہوتا۔پھل لگتے ہیں اور بے تحاشا لگتے ہیں مگر خدا لگاتا ہے۔انسانوں کا اختیار اس وقت شروع ہوتا ہے جب وہ ان کے پھلوں کو گرنے سے بچاتا ہے یا اس امر کی نگہداشت کرتا ہے کہ اسے جانور نہ کھا جائیں یا بچے نہ توڑلیں یا کیڑے اس باغ کو خراب نہ کر دیں اور یہ حفاظت اور نگہداشت اس کی خوبی ہوتی ہے۔جہاں تک پھلوں کا سوال ہے اس کا لگا نا خدا کے اختیار میں ہے لیکن جہاں تک ان پھلوں کی حفاظت کا سوال ہے وہ انسان کے اختیار میں ہے۔لیکن بیوقوف اور نادان باغبان پھلوں کی حفاظت نہیں کرتا اور وہ ضائع ہو جاتے ہیں۔یہاں پاکستان میں ہمیں بھی لائلپور میں ایک باغ