مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 696
اپنے پیاروں کی نسبت ہرگز نہ کروں گا پسند چھوٹے درجہ راضی ہوں اور اُن کی نگاه رہے وه چھوٹی چھوٹی باتوں پر شیروں کی کی طرح غراتے ہوں یا قصور اگر دیکھیں تو منہ میں گف بھر لاتے ہوں چھوٹی اونی اونی چھوٹی چیزوں خواہش لگائے بیٹھے پر ہوں مقصود بنائے بیٹھے ہوں زباں سے بیٹھے دشمن کو مارے جاتے ہوں یدانِ عمل کا نام بھی لو تو جھینپتے ہوں گھبراتے ہوں گیدڑ کی طرح وہ تاک میں ہوں شیروں کے کے شکار جانے بیٹھے خوابیں دیکھتے ہوں ان وہ کا جوٹھا کھانے میری ألفت کے طالب میرے دل کا اپنے نفس کو دیکھ لے تو وہ ان باتوں میں کیسا تیری ہمت چھوٹی گر ہے تیرے ارادے مرده تیری اُمنگیں کو تہ ہیں گر کیا تیرے ساتھ لگا کر دل تیرے خیال افسرده میں خود بھی کمینہ بن جاؤں ہوں جنت کا مینار مگر دوزخ کا زینه بن جاؤں خواہش میری الفت کی تو اپنی کے جالوں میں مت پھنس کر قبضہ جا نگاہیں کے اُونچی مقدر واحد کا ہوں دل تو بھی واحد بن ذذ داده اور واحد میرا پیارا جائے 3 میری آنکھ کا ہو ساری دنیا میں ཚྭ ག دنیا کو دے لیکن کوئی ساجھی اور شریک نہ خود تیرے ہاتھ میں بھیک نہ >>>>>