مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 686 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 686

686 کوئی تعلق نہیں تھا۔اب اگر یہ اسے محض دوستی کی وجہ سے ووٹ دیتا ہے تو ہم کہیں گے یہ صاحب الرائے نہیں۔صاحب الرائے کے یہ معنے ہیں کہ وہ اپنے اندر قابلیت رکھتا ہو کہ غیر متعلق باتوں کو اپنے فیصلوں پر اثر انداز نہ ہونے دے۔مثلاً امامت کا سوال ہو تو یہ نہ دیکھے کہ کوئی اس کا بھائی ہے باپ ہے یا کوئی اور قریبی رشتہ دار ہے بلکہ فیصلہ کرتے ہوئے وہ صرف یہ دیکھے کہ وہ نمازی ہے، دیندار ہے اسے قرآن کریم کا علم دوسروں سے زیادہ ہے۔دیندار ہو نا نمازی ہونا اور قرآن کریم کا علم رکھنا یہ سب باتیں امامت سے تعلق رکھتی ہیں۔عہد یداری یارشتہ داری کا امامت سے کوئی تعلق نہیں۔بیرونی جماعتوں میں بھی ایسی غلطیاں ہوتی ہیں۔ہمارا کام ہے کہ ہم ان کی تربیت کریں۔ایک جگہ سے مجھے لکھا گیا کہ فلاں شخص ہماری جماعت میں صاحب رسوخ ہے اس کے بغیر ہمارا گزارہ نہیں ہو سکتا لیکن دقت یہ ہے کہ وہ ایک دفعہ جماعت سے خارج ہو چکا ہے اور اس کی دینی حالت بھی ٹھیک نہیں۔اب کوئی بھلا مانس ان سے یہ پوچھے کہ کیا وہ روزویلٹ ٹرومین، آئزن ہاور یا چیانگ کا شیک سے بھی بڑا ہے۔اگر تم ان کے بغیر گزارہ کر رہے ہو تو اس کے بغیر کیوں نہیں کر سکتے لیکن جماعتیں ہمیں چٹھیاں لکھتی رہتی ہیں اور بعض اوقات ہم بھی مجبور ہو جاتے ہیں کہ ان کی منظوری دے دیں۔ہم یہ کہہ دیتے ہیں کہ اچھا تم جھک مارنا چاہتے ہو تو مارو۔تم اپنے لئے موت قبول کرتے ہو، تو ہم کیا کریں۔پس عہدیدار کے لئے یہ ضروری ہے کہ اس کے اندر پابندی کرانے کا مادہ ہو۔وہ ڈرپوک نہ ہو۔ایک دفعہ میں راولپنڈی گیا۔۳۳ ء کی بات ہے۔اس سال میری بیوی سارہ بیگم فوت ہوئی تھیں۔راولپنڈی میں میرے سالے ڈاکٹر تقی الدین احمد صاحب بھی تھے جو اس وقت فوج میں غائباً میجر تھے اور راجہ علی محمد صاحب بھی تھے جو اس وقت افسر مال تھے اور جماعت کا امیر ایک کلرک تھا۔مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ اس امیر - اس امیر نے ایسا انتظام رکھا تھا کہ اگر وہ کہتا کھڑے ہو جاؤ تو یہ لوگ کھڑے ہو جاتے۔اگر کہتا کہ بیٹھ جاؤ تو بیٹھ جاتے۔گو اس کا انتخاب بطور امیر اتفاقاً ہو گیا تھا۔وہ پہلے امیر منتخب ہو چکا تھا اور راجہ علی محمد صاحب اور ڈاکٹر تقی الدین احمد صاحب بعد میں راولپنڈی گئے۔بہر حال اس نے اپنے انتخاب کی عزت کو قائم رکھا اور اپنے سے بڑے درجہ کے لوگوں کو بھی پابند نظام بنالیا۔عمونا دیکھا گیا ہے کہ ہماری جماعت میں احمدیت صرف کر نیلی تک جاتی ہے۔جب کوئی احمدی کر نیل ہو جاتا ہے تو اس کے خاندان کی عورتیں پردہ چھوڑ دیتی ہیں اور مردوں سے میل جول شروع کر دیتی ہیں۔بعض احمد ہی کرنیل کا عہد حاصل کرنے کے بعد شراب بھی پی لیتے ہیں۔میں نے دیکھا ہے کہ کر نیلوں میں سے بہت کم تعداد ایسی ہے جن کے متعلق ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ احمدیت پر قائم ہے۔اب اگر صرف یہ دیکھ کر کہ کوئی شخص فوج میں کر نیل ہے اسے امیر بنا دیا جائے تو درست امر نہیں۔اگر ایک چپڑاسی اس سے زیادہ دیندار ہو تو جماعت کی خوبی