مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 662 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 662

662 مسئلہ خلافت کے متعلق حضرت خلیفۃ اصسیح الثانی کی ایک نہایت ایمان افروز اور روح پرور تقریر افراد مر سکتے ہیں لیکن قو میں اگر چاہیں تو خلافت کے قیام واستحکام کے ذریعہ سے ہمیشہ زندہ رہ سکتی ہیں سات سال سے زیادہ عرصہ گذرا کہ سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے ایک رؤیاد دیکھا جس میں بتایا گیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صرف ۳۳ سال کے بعد ہی مسلمان خلافت سے کیوں محروم ہو گئے۔اس عظیم الشان انکشاف پر حضور نے مناسب سمجھا کہ نوجوانانِ جماعت احمدیہ کو توجہ دلائیں کہ انہیں ہمیشہ یہ کوشش کرنی چاہئے کہ آئندہ وہ حالات کبھی پیدا نہ ہوں جن کی بنا پر مسلمان خلافت روحانی سے محروم ہو گئے تھے۔چنانچہ ۲۵ اکتوبر ۱۹۵۳ء کو خدام الاحمدیہ کے سالانہ اجتماع پر حضور نے اس کے متعلق ایک نہایت ایمان افروز تقریر فرمائی۔(مرتب) فرمایا : ” میں کل تھوڑی دیر ہی بولا تھا لیکن گھر جاتے ہی میری طبیعت خراب ہو گئی اور سارادن پینے آتے رہے۔آج بھی گلے میں تکلیف ہے۔کھانسی آرہی ہے بخار ہے اور جسم ٹوٹ رہا ہے جس کی وجہ سے میں شاید کل جتنا بھی نہ بول سکوں لیکن چونکہ خدام الاحمدیہ کے اجتماع کا یہ آخری اجلاس ہے اس لئے چند منٹ کے لئے یہاں ا گیا ہوں۔چند منٹ باتیں کر کے میں چلا جاؤں گا اور اس کے بعد باقی پروگرام جاری رہیگا۔انسان د نیا میں پیدا بھی ہوتے ہیں اور مرتے بھی ہیں کوئی انسان ایسا نہیں ہوا جو ہمیشہ زندہ درہا ہو لیکن قو میں اگر چاہیں تو وہ ہمیشہ زندہ رہ سکتی ہیں کہیں امید دلانے کے لئے حضرت مسیح علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ :- میں باپ سے درخواست کروں گا تو وہ تمہیں دوسرا مددگار بخشے گا کہ ابد تک تمہارے ساتھ رہے۔“ ( یوحنا باب ۱۴ آیت ۱۷۱۶) اس میں حضرت مسیح علیہ السلام نے لوگوں کو اسی نکتہ کی طرف توجہ دلائی تھی کہ چونکہ ہر انسان کے لئے موت مقدر ہے اس لئے میں بھی تم سے ایک دن جدا ہو جاؤں گا لیکن اگر تم چاہو تو تم ابد تک زندہ رہ سکتے ہو۔انسان اگر چاہے بھی تو وہ زندہ نہیں رہ سکتا لیکن قو میں اگر چاہیں تو وہ زندہ رہ سکتی ہیں اور اگر وہ زندہ نہ رہنا چاہیں تو مر جاتی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی یہی فرمایا کہ :-