مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 651
651 کہ آپ اسے پڑھ کر وہاں کے حالات سے باخبر ہو جائیں بلکہ رپورٹ میں نو مسلموں کی تعداد پڑھنے میں آپ کو سوچنا چاہئے کہ اس ملک میں بیعت کی رفتار کیا ہے۔وہاں کب سے مشن قائم ہے اور اس عرصہ میں کتنے آدمیوں نے بیعت کی۔بیعت کی رفتار نکالنے کے بعد آپ اندازہ لگائیں کہ اس حساب سے وہ ملک کتنے عرصہ میں جا کر مسلمان ہو گا ؟ اور اسی طرح ہم کتنے عرصہ میں توقع کر سکتے ہیں کہ ساری دنیا اسلام کو قبول کرے گی۔اگر یہ سوچو کہ دنیا ہماری مخالفت کرتی ہے تو ساتھ ہی تمہیں یہ بھی سوچنا چاہئے کہ دنیا مخالفت کیوں کرتی ہے۔اس کا جواب یہ ہو سکتا ہے کہ بچی تحریکوں کی مخالفت ہوتی ہی چلی آئی ہے۔یہ ہے صحیح لیکن ساتھ ہی تمہیں یہ سوچنا پڑے گا کہ کیا یہ مخالفتیں ہمیشہ ہمیش جاری رہتی ہیں ؟ کیا پہلوں نے ان مخالفتوں کو دبانے اور کم کرنے کا کوئی طریقہ نہیں نکالا ؟ کیا آدم "نوح" "ابراہیم موسے اور عیسی نے ان مخالفتوں سے ہار مان لی تھی ؟ اگر انہوں نے بار نہیں مانی تھی تو ہم کیوں ہار مانیں ؟ اور کیوں نہ ایسار استہ نکالیں کہ جس سے یہ مخالفتیں آپ ہی ختم ہو جائیں۔اگر تم سوچتے تو تمہارے سامنے خود ر استے کھل جاتے۔ہر شخص کو چاہئے کہ وہ اپنی اپنی جگہ غور و فکر کی عادت ڈالے اور محض دوسروں کے غور و فکر پر تکیہ نہ کرے۔کام کرنے کا جذبہ قوم کو ابھار دیتا ہے۔باوقار طریق پر سوچنے اور غور کرنے کی عادت ڈالو تاکہ تم میں ایسی روح اور جذبہ پیدا ہو جائے کہ تم وقت آنے پر بڑی سے بڑی ذمہ داری اُٹھا سکو - کام کرنے کا جذبہ قوم کو ابھار دیتا ہے۔پھر کسی کے مرنے یا فوت ہونے سے حوصلے پست نہیں ہوتے۔رسول کریم ﷺ نے صحابہ میں غور و فکر کی عادت پیدا کر کے ان میں جذبہ ء عمل بھر دیا تھا۔یہی وجہ ہے کہ ان میں سے کسی کے مرنے یا فوت ہونے سے کبھی خلا پیدا نہیں ہوا۔ہر موقع پر کوئی نہ کوئی لیڈر آگے آتارہا اور مسلمان اس کی قیادت میں منزل بہ منزل کامیابی و کامرانی کی طرف بڑھتے رہے۔پس کام فکر اور سمجھ کے مطابق کرنے چاہئیں۔اگر ایسا کرنے لگ جاؤ گے تو تم میں سے ہر شخص کمان کے قابل ہو جائے گا۔یہی چیز قوم کو خطرات سے بچانے والی ہوتی ہے کہ اس کے ہر فرد کے اندر لیڈر شپ کی صلاحیت موجود ہو۔جب یہ صلاحیت قوم میں عام ہو جائے تو پھر لیڈر ڈھونڈنے یا مقرر کرنے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ایسی حالت میں وقت پڑنے پر لیڈر شپ خود بخود اُبھر کر آگے آجاتی ہے اور قوم پر ہراساں یا پریشاں ہونے کا کبھی موقع نہیں آتا۔اس میں شک نہیں قوموں پر مصائب آسکتے ہیں۔انہیں قتل بھی کیا جا سکتا ہے۔انہیں گھروں سے بھی نکالا جا سکتا ہے لیکن اگر سوچنے کی عادت ہو تو ان سے بچنے کی راہیں بھی نکل سکتی ہیں۔“ فرموده ۲۴ اگست ۱۹۵۳ء المصلح کراچی ۵ ۱۲اگست ۱۹۵۳ء )