مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 646
646 قومی زندگی نو جوانوں سے وابستہ ہوتی ہے اس لئے اپنی فرائض منصبی اور قومی ذمہ داریوں کو ادا کر نیکی طرف توجہ کرنی چاہئے۔میں نوجوانوں کو خطاب کر کے انہیں اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنے فرائض منصبی اور قومی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کی طرف توجہ کریں۔ان کے ماں باپ بھی میرے مخاطب ہیں۔قومی زندگی نوجوانوں کی ترقی کے ساتھ وابستہ ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ جس وقت احرار کا فتنہ ۳۴ء میں شروع ہوا تھا، اس وقت نہ معلوم کیا حالات تھے جن کی وجہ سے جماعت میں اتنی بیداری ہوئی کہ سینکڑوں نوجوانوں نے زندگیاں وقف کیں اور پھر ایسے حالات میں اپنی زندگیاں وقف کیں جو آجکل کے حالات سے بالکل مختلف تھے۔آجکل تو واقفین کے گزارے ایک حد تک معقول ہیں لیکن اس وقت جو گزارے دیئے جاتے تھے وہ بہت قلیل تھے لیکن اس کے باوجود سینکڑوں نوجوانوں نے اپنی زندگیاں وقف کیں۔اب جو جوان باہر جاتے ہیں انہیں علاوہ مکان اور دوسرے ضروری اخراجات کے گیارہ پونڈ ماہوار دیئے جاتے ہیں۔اگر چہ پونڈ کے علاقوں میں گیارہ پونڈ بھی بہت کم ہیں مگر پھر بھی مبلغ کو مکان کے اخراجات پانی کے اخراجات بجلی کے اخراجات وغیرہ علاوہ مل جاتے ہیں لیکن اس وقت ہم انہیں اس سے بھی کم اخراجات دیتے تھے اور بعض اوقات تو کچھ بھی نہیں دیتے تھے بلکہ کہتے تھے کہ جاؤ اور کام کرو۔بعض اوقات چھ سات پاؤنڈ دے دیتے تھے اور کہتے تھے کہ اس رقم سے مکان ، پانی خوراک اور بجلی وغیرہ کا انتظام کرو لیکن اس زمانہ میں جبکہ احمدیت کے خلاف پہلے سے بھی زیادہ شدید مخالفت اٹھی اور احمدیت سے محبت رکھنے والے دلوں کے دل میں یہ خطرہ پیدا ہو گیا کہ اب دین کی حالت نہایت نازک ہے تو مجھے جماعت کے نوجوانوں میں وہ بیداری نظر نہیں آئی جو پہلے ان میں پیدا ہوئی تھی۔احرار کے پہلے فتنہ کے وقت تو یہ حالت تھی کہ اسے دیکھ کر سینکڑوں نوجوانوں نے زندگیاں وقف کر دیں لیکن اس شورش کے وقت میں میں دیکھتا ہوں کہ سینکڑوں نوجوانوں کا زندگیاں وقف کرنا تو ایک طرف رہا، درجنوں نوجوانوں نے بھی زندگیاں وقف نہیں کیں بلکہ ہفتہ دو ہفتہ میں ایک آدھ درخواست ایسی آجاتی ہے کہ مجھے وقف سے فارغ کر دیا جائے کیونکہ میں تکالیف کو برداشت نہیں کر سکتا۔میں سمجھتا ہوں کہ ایسے حالات میں ایسے شخص کا ایمان کوئی ایمان نہیں۔اس وقت اس کے