مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 642 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 642

642 تم محمد رسول صلی الم کے اسوہ حسنہ کو ہمیشہ اپنے سامنے علیه رکھو اور اسلام کی خاطر آنے والے خطرات کیلئے تیار ہو! خضور نے خدام الاحمدیہ کی تنظیم کا مقصد یہ تھا کہ سو میں سے سو قربانی پر پورے اتریں فرمایا : " خدام الاحمدیہ کی تنظیم کی غرض یہی تھی کہ اگر کسی موقع پر قربانی کا موقع آجائے تو سو میں سے ننانوے نہیں بلکہ سو کے سو ہی اس قربانی پر پورے اتریں۔یہ روح اگر تم میں پیدا ہو جائے تو پھر دنیا کی کوئی قوم تم پر ظلم نہیں کر سکتی۔دنیا کی کوئی طاقت تمہاری راہ میں کھڑی نہیں ہو سکتی۔یہ تو خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ تمہاری اکثریت ایک ایسے ملک میں ہے جہاں کی حکومت جمہوریت کے اسلامی اصولوں کی پابندی کرتے ہوئے حتی الامکان ظلم و ستم ہونے نہیں دیتی لیکن تم نے صرف ایک ملک تک محدود نہیں رہنا۔تم نے ساری دنیا میں اسلام کا جھنڈا گاڑنا ہے اور دنیا میں آج بھی ایسے ملک موجود ہیں جہاں پر مذہب کے نام پر ظلم ہو تا ہے۔جہاں تلوار کے زور سے عقائد کو تبدیل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔پس تمہارا فرض ہے کہ تم ایسے ممالک کے حالات کے لئے بھی اپنے آپ کو تیار رکھو تاکہ وقت آنے پر تم کمزوری نہ دکھلا سکو۔" پس تم میں سے ہر ایک کا فرض ہے کہ وہ ایسے حالات کے لئے اپنے آپ کو تیار قربانی کے لئے تیاری کرو رکھے جبکہ ایک طرف ایمان ہو اور دوسری طرف تلوار۔دیسے تو اس وقت تم میں سے ہر ایک جذباتی طور پر کہہ دے گا کہ ہم جانیں دے دیں گے مگر اپنے ایمان پر قائم رہیں گے۔مگر حقیقت یہ ہے کہ ہر چیز تیاری اور وقت چاہتی ہے۔اس سال جو حالات پیدا ہوئے ہیں، ان کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری پہلی بلوغت کے ساتھ ہی تمہیں ہوشیار کر دیا ہے تاکہ تم آنے والے خطرات کے مقابلہ کے لئے تیاری کر سکو "۔اب دیکھنے والی بات یہ ہے کہ بارہ سال کی اس بلوغت تک پہنچنے کے بعد کیا تمہاری عقلیں اتنی تیز ہو گئی ہیں کہ تم ہر طرح کے خطرات کا مقابل کر سکو۔یوں تو مومن خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت اپنی حفاظت کرتا ہے لیکن اگر ایک طرف تمہاری جان ہو اور دوسری طرف ایمان تو کیا تم میں سے ہر ایک کی روح بلا تردد و بلا تامل اور فوری