مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 619
619 کا مفید جزو بننے کے لئے یہ روح نہایت ضروری ہے اور جو شخص قوم کا مفید وجود بننا چاہتا ہے ضروری ہے کہ وہ ایثار سے کام لے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔آخری زمانہ میں ایک عظیم الشان فتنہ برپا ہو گا جو سب لوگوں پر چھا جائے گا۔اس وقت مومن وہی ہو گا جو ایثار کرے گا اور سمجھے گا کہ قوم کی اصلاح کے لئے ضروری ہے کہ میں اپنا حق چھوڑ دوں اور خلوت اختیار کرلوں۔اصل بات یہ ہے کہ جب انسانی اخلاق میں تنزل پیدا ہو جاتا ہے تو عام طور پر انسان خواہ مخواہ ہر چیز کو اپنا حق تصور کر لیتا ہے اور ایثار کا لفظ کہہ کر اسے اس قسم کی حرکات سے روکا گیا ہے۔اگر کسی قوم کے افراد میں ایثار کا مادہ نہیں پایا جاتا تو وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گی۔جب حضرت معاویہ سے یہ غلطی ہوئی کہ انہوں نے اپنے بیٹے یزید کی خلافت کا اعلان کیا تو انہوں نے لوگوں کو مدینہ میں اکٹھا کیا اور یزید کے متعلق کہا کہ میں چاہتا ہوں، میرے بعد میرا بیٹا میرا جانشین ہو کیونکہ یہ ایک ایسے خاندان کا فرد ہے جو عرب میں معزز سمجھا جاتا ہے اور پھر اسے خدمت کا موقعہ ملا ہے اس لئے ان کا حق ہے کہ خلافت انہی کو ملے۔تمہاری کیا رائے ہے۔آپ کا یہ مطلب تھا کہ یہ لوگ میری تائید کر دیں گے ، تردید نہیں کریں گے اور میں یزید کی خلافت کا اعلان کر دوں گا۔حضرت عبد اللہ بن عمرؓ " جو اس وقت ایمان لائے تھے جب حضرت معاویہ کا باپ ابو سفیان کفر کی سرداری کر رہا تھا بلکہ حضرت عمر بھی ابھی ایمان نہیں لائے تھے ، آپ اس مجلس میں موجود تھے۔آپ فرماتے ہیں۔میں پٹکا باندھے بیٹھا تھا ، جب معاویہ نے کہا کہ ہمارے خاندان کا حق ہے کہ اسے خلافت ملے اور میرا بیٹا مستحق ہے کہ وہ میرے بعد خلیفہ ہو تو میں نے چاہا کہ پٹکا کھولوں اور کھڑا ہو کر کہوں کہ بادشاہت کا حقدار وہ ہے جو اسلام کی تائید میں اس وقت تلوار چلا رہا تھا جب تمہارا باپ کفر کی سرداری کر رہا تھا لیکن مجھے خیال آیا کہ اس طرح فتنہ کا دروازہ کھل جائے گا اس لئے میں نے دوبارہ پٹکا باندھ لیا اور خاموش رہنا ہی بہتر خیال کیا۔یہ ایثار ہے جو حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے یزید کے مقابلہ میں دکھایا۔آپ کے مقابلہ میں یزید تو کوئی نسبت ہی نہیں رکھتا تھا۔وہ تو ایک خبیث انسان تھا۔آپ کے مقابلہ میں ابو سفیان اور حضرت معاویہ کی بھی کوئی حیثیت نہیں تھی۔وہ ابتدائی ایمان لانے والوں میں سے تھے اور اس وقت ایمان لائے تھے جب حضرت عمرہ بھی ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے۔آپ جب ایمان لائے تو آپ کی عمر پندرہ سال کی تھی اور اپنے باپ سے کئی سال قبل آپ ایمان لے آئے تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کو اس قدر عشق تھا کہ وہ بعض اوقات حضرت عمر فرماتے تھے ، فلاں بات عبد اللہ سے پوچھ لو کیونکہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال کو زیادہ جانتا ہے۔یعنی آپ کی فضیلت کو حضرت عمر بھی تسلیم کرتے تھے۔یزید کے مقابلہ میں آپ کا حق تو مسلم تھا لیکن انہوں نے اپنا حق چھوڑ دیا اور کہا میں لوگوں کو فتنہ میں نہیں ڈالنا چاہتا۔یزید خلیفہ بنتا ہے تو بننے دو۔میں کیوں فتنہ کا موجب بنوں نوں لیکن میں کہتا ہوں کاش حضرت عبد اللہ بن عمر اس موقعہ پر خاموش نہ رہتے بلکہ بول پڑتے۔وہ حکومت کے یقیناً حقدار تھے۔اگر وہ حکومت حاصل کر لیتے تو یقیناً اسلامی حکومت میں جو فور اتنزل شروع ہو گیا تھا، وہ نہ آتا اور اسلام کی ترقی کا دور لمبا ہو جاتا۔ہم حضرت معاویہ کی خلافت کے قائل نہیں۔وہ ایک بادشاہ تھے اور