مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 612
612 ہے تو یہ سچ ہو گا لیکن اگر تم خود ہیڈ ماسٹر کے پاس چلے جاتے ہو اور کہتے ہو میں نے فلاں لڑکے کو مارتے ہوئے دیکھا ہے تو یہ فتنہ ہو گا اور اسلام اس سے منع کرتا ہے۔ہر نیکی کسی محل پر گناہ بن جاتی ہے اور ہریدی کسی محل پر نیکی بن جاتی ہے۔عفو کرنا بھی اسلام نے جائز رکھا ہے۔فرض کرو اس لڑکے نے واقعی طور پر کسی لڑکے کو مارا تھا لیکن بعد میں مار کھانے والا مارنے والے کو معاف کر دیتا ہے اور اپنے والدین یا بہن بھائیوں کو نہیں بتا تا تو یہ بہت بڑی نیکی ہے۔اب اگر تم اس کے والدین کے پاس چلے جاتے ہو اور کہتے ہو فلاں لڑکے نے تمہارے لڑکے کو مارا ہے تو گو اس طرح تم ایک حقیقت بیان کرتے ہو لیکن تمہارا یہ حقیقت بیان کرنا فتنہ کا موجب بن جائے گا۔وہ لڑکا مار نے والے کو معاف کر آیا تھا لیکن اس کے والدین یا استاد اگر تم ان کے پاس رپورٹ کرتے ہو تو اسے سزا دیں گے۔پس سچ اس چیز کا نام نہیں کہ تم جو کچھ دیکھو وہ بیان کر دو۔سچ اس چیز کا نام ہے کہ جب تم سے گواہی لی جائے تو تم وہی بیان کرو جو واقع ہوا ہے۔یہی وجہ ہے کہ شریعت نے حکم دیا ہے کہ گواہی صرف قاضی لے کیونکہ بعض جگہیں ایسی ہوتی ہیں جہاں شریعت کہتی ہے کہ گواہی نہ لو۔اب اگر گواہی لینے والا قاضی نہ ہو تو ہو سکتا ہے وہ کوئی ایسی بات پوچھ لے جس کے پوچھنے کی شریعت نے اجازت نہیں دی اور اس طرح فتنہ پھیل جائے۔مثلا ایک شخص کسی دوسرے شخص پر الزام لگاتا ہے کہ اس نے چوری کی تو اب چوری کرنا بے شک جرم ہے لیکن قاضی کو یہ اختیار نہیں کہ وہ اس کی بات مان لے اور فیصلہ کر دے کہ اس نے فی الواقعہ چوری کی ہے۔قاضی کو فیصلہ کرنے کا اسی وقت اختیار ہے جب الزام لگانے والا الزام کو گواہیوں سے ثابت کر دے۔شریعت نے توبہ کا دروازہ کھلا رکھا ہے اور توبہ کا دروازہ اسی وقت کھلا رہ سکتا ہے جب اخفا کا دروازہ کھلا رہے۔جب کسی جرم کو چھپانے کی اجازت نہیں تو پھر تو بہ کا دروازہ بھی کھلا نہیں۔مثلا اگر کسی نے دوسرے شخص کا کھانا اٹھا لیا تو ہو سکتا ہے وہ ایسا کرنے میں معذور ہو اور خدا تعالیٰ نے اس پر پردہ ڈال دیا ہو یا ہو سکتا ہے خداتعالی مالک کو اپنے پاس سے بدلہ دے دے یا ہو سکتا ہے کہ کھانا کھا لینے کے بعد اسے یہ خیال آئے کہ میں نے بڑی غلطی کی ہے۔اگر دو وقت کا پہلے فاقہ تھا تو ایک وقت کا فاقہ اور برداشت کر لیتا۔وہ خدا تعالیٰ کے سامنے گڑ گڑائے اور کسے خدایا ! میں نے غلطی کی ہے۔تو مجھے معاف کر دے اور خد اتعالیٰ نے اسے معاف کر دیا ہو اور جس شخص کا کھانا اس نے کھایا ہے وہ بھی صبر کر لے لیکن اگر اسے کھانا کھاتے ہوئے کوئی دیکھ لیتا ہے اور وہ مالک کو کہہ دیتا ہے کہ فلاں نے تمہاری چوری کی ہے تو یہ سچ نہیں بلکہ فتنہ اور شرارت ہے۔اس قسم کی شکایت اگر قاضی کے پاس جائے تو چونکہ وہ شریعت کا واقف ہو گا وہ کہے گا۔دو گواہ لاؤ اور اگر دو گواہ مل جاتے ہیں تو پتہ لگا کہ خدا تعالیٰ نے اس کی پردہ پوشی نہیں کی لیکن اگر وہ بغیر گواہوں کے اس کی بات مان لیتا ہے تو وہ خدا تعالیٰ کی پردہ پوشی کو توڑتا ہے۔میں سچ کے یہ معنی نہیں کہ جو کچھ تم دیکھو اسے ضرور بیان کرو اور نہ سچ کے یہ معنی ہیں کہ تم جو کچھ دیکھو اسے ہر ایک کے سامنے بیان کرو۔اگر غیر قاضی تم سے سوال کرتا ہے تو تم کہہ دو۔میں نہیں بتا تا۔اسی طرح اگر تم کسی شخص کو کوئی جرم کرتے دیکھتے ہو تو تمہارا اس پر پردہ ڈال دینا بچ کے خلاف نہیں۔تمہارا سچ کے خلاف فعل اس وقت متصور ہو گا جب قاضی یا قائم