مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 611
611 دلیری سے کھڑے ہو جاتے اور کہتے میرے سب دوست سچ بولتے ہیں کیونکہ جب تمہارے کسی دوست نے جھوٹ بولا تھا، اس وقت سے وہ تمہارا دوست نہیں رہا تھا۔اگر تم ایسا کرتے تو تم خود بھی اور تمہارا وہ دوست بھی سچ بولنے لگ جاتا۔اگر تمہاری دوستی کی اس کے نزدیک کوئی قیمت ہوتی تو وہ کہتا میں اس کا دوست رہنا چاہتا ہوں اس لئے میں آئندہ ہمیشہ سچ بولوں گا۔اس کا نتیجہ یہ نکلتا کہ تم بھی سچ بولنے لگ جاتے کیونکہ جب تم اپنے دوست سے بچ بلواتے تو پھر وہ دوست بھی تمہیں مجبور کرتا کہ تم سچ بولو اور اس طرح تمہیں وہ قیمت مل جاتی جس کا ہیرے جواہرات بھی مقابلہ نہیں کر سکتے۔بہر حال اگر تم نے پہلے اس طریق پر عمل نہیں کیا تو اب اس طریق پر عمل کرنا شروع کر دو۔یہ کہنا فضول ہو گا کہ تم جھوٹ نہ بولو کیونکہ اگر میں ایسا کہوں تو تمہارے لئے آگے قدم اٹھانا مشکل ہو جائے گا۔میں کہتا ہوں جھوٹ بولنے والا تمہارا دوست نہ ہو۔اس طرح تم خود سچ بولنے لگ جاؤ گے۔تم اگر ایک دوست کو یہ کہو گے کہ اگر تم نے جھوٹ بولا تو میری تمہاری دوستی ٹوٹ جائے گی تو لا ز ما تمہارا دوست بھی یہ فیصلہ کرے گا کہ اگر تم نے جھوٹ بولا تو اس کی دوستی بھی ٹوٹ جائے گی اور جب بھی تم جھوٹ بولو گے تو وہ کہے گا۔میاں تم کیا کر رہے ہو۔غرض سچ ایک قیمتی چیز ہے اور پھر کوئی مشکل بھی نہیں ، آسان ترین ہے۔جو کام ہاتھ نے کیا ہے اس کے متعلق یہ کہہ دینا کہ ہاتھ سے یہ کام کیا ہے۔اس میں بوجھ کیا ہے۔آنکھ نے جو کچھ دیکھا اس کے متعلق یہ کہہ دینا کہ آنکھ نے فلاں چیز دیکھی ہے ، اس میں کونسی مشکل ہے۔کانوں نے ایک بات سنی ہے۔اب اس کے متعلق یہ کہہ دینا کہ کانوں نے فلاں بات سنی ہے اور اس کو دو ہرا دینا کون سی مشکل بات ہے۔یہاں کوئی فقرہ نہیں بنانا ، صرف ایک بات کو دہرا دینا ہے۔مثلا عربی زبان ہے۔آپ لوگ اسے بڑی مشکل سے سیکھ سکتے ہیں لیکن ایک دو سال کے بچے کو بھی کہو ذهبت تو وہ اسے دہرا دے گا گویا جو فقرہ بنانا تم ساتھ ہیں۔آٹھویں جماعت میں سیکھو گے ، وہ تم ایک سال کے بچہ سے بھی سن سکتے ہو۔تم کہو گے ذھبت تو وہ فوراد ہرا دے گا۔اسی طرح بچ نقل کرنے کو کہتے ہیں یعنی جب تم سچ بولتے ہو تو ایک بات کو دہرا دیتے ہو۔ہاتھ سے ایک کام کرتے ہو تو تم کہتے ہو ہاتھ فلاں کام کرتے ہیں۔آنکھیں دیکھتی ہیں تو تم کہتے ہو آنکھیں دیکھتی ہیں۔کان سنتے ہیں تو تم کہتے ہو کان سنتے ہیں۔زبان چکھتی ہے تو تم کہتے ہو زبان چکھتی ہے اور اسی کو سچ کہتے ہیں لیکن یاد رکھو نچ کے یہ معنے نہیں کہ آنکھ نے جو کچھ دیکھا ہے وہ تم ضرور کہہ دو۔قرآن کریم بعض باتوں کے بیان کرنے سے منع کرتا ہے پس اگر کوئی شخص ان کو بیان کرتا ہے تو وہ سچ نہیں بولتا بلکہ فتنہ و فساد پھیلاتا ہے۔سچ کے معنے صرف یہ ہیں کہ اگر تم کوئی بات کہو تو ضرور سچ کہو۔یہ نہیں کہ تم وہ بات ضرور کہو۔فرض کرو تم نے ایک لڑکے کو کسی دوسرے لڑکے کو مارتے دیکھا۔اب اگر ہیڈ ماسٹر تمہیں بلا کر پوچھتا ہے کہ کیا اس لڑکے نے فلاں لڑکے کو مارا تھا تو تم کچی بات بتادو خواہ مارنے والا تمہار ا گہرا دوست ہی ہو لیکن اگر تم خود ہیڈ ماسٹر کے پاس چلے جاتے ہو اور اسے کہتے ہو کہ میں نے فلاں لڑکے کو مارتے ہوئے دیکھا ہے تو یہ سچ نہیں بلکہ فتنہ و شرارت ہے۔جب ہیڈ ماسٹر خود بلا کر پوچھے اور تم کہو میں نے فلاں لڑکے کو مارتے ہوئے دیکھا