مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 606
606 یہ تقریر سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے ۱۲ فروری ۱۹۵۱ء کو مجلس خدام الاحمدیہ مرکز یہ کے ایک غیر معمولی اجلاس میں فرمائی تھی جو پہلی مرتبہ الفضل ۷ ۱۲۹٬۲۸۴۲اپریل ۱۹۶۱ء میں طبع ہوئی تھی۔(مرتب) فرمایا :۔سال دو قسم کے ہوتے ہیں ایک تو وہ سال ہوتا ہے جو کسی جماعت کی ابتداء یا کسی کام کے جاری ہونے کے وقت سے بارہ مہینے گزرنے کے بعد شروع ہوتا ہے اور ایک وہ سال ہو تا ہے جو سمسی یا قمری سالوں کے اصول پر شروع ہوتا ہے۔قمری سال تو بدلتا رہتا ہے لیکن سشمسی سال ہمیشہ یکم جنوری کو شروع ہو تا ہے۔آج جب مجھ سے خواہش کی گئی کہ میں خدام الاحمدیہ کو سال رواں کے متعلق بعض ہدایات دوں تو میں نے یہ بات مان تو بای لیکن میری سمجھ میں یہ بات نہ آئی کہ یہ کون سا سال رواں ہے جس کے متعلق مجھ سے بعض نصائح اور ہدایات حاصل کرنے کی خواہش کی گئی ہے۔اس پر مجھے بتایا گیا کہ مجلس خدام الاحمدیہ کا قیام چونکہ ۴ فروری کو ہوا تھا اس لئے اس مہینہ سے مجلس خدام الاحمدیہ کے نئے سال کی ابتدا ہوتی ہے ورنہ تنسی یا قمری اصول کے مطابق یہ کوئی نیا سال شروع نہیں ہوا۔نصیحت ہمیشہ اس شخص کے لئے مفید اور کار آمد ہوتی ہے جو اسے قبول کرتا اور اس پر عمل کرتا ہے۔باقی لوگوں کے لئے اس کا عدم اور وجود برا بر ہوتا ہے۔چند ماہ ہوئے خدام الاحمدیہ کا سالانہ اجتماع ہوا تھا اور اس موقعہ پر میں نے جماعت کے نوجوانوں کو بہت سی مفید باتوں کی طرف توجہ دلائی تھی۔چونکہ میرے پاس امتحان کا کوئی ذریعہ موجود نہیں اس لئے میں نہیں جانتا کہ میری نصائح کا کیا اثر ہوا اور عمل میں کیا تبدیلی پیدا ہوئی اور جب تک یہ معلوم نہ ہو کہ پہلی نصائح کا کیا اثر ہوا اور اس کے نتیجہ میں اعمال میں کیا تبدیلی پیدا ہوئی ، اس وقت مزید نصائح کی طرف انسان کی توجہ کم ہوتی ہے اور مزید نصائح چنداں مفید بھی نہیں ہو تیں بلکہ بسا اوقات نصائح کی زیادتی قوم کی ستی اور غفلت کا موجب ہو جاتی ہے کیونکہ جو چیز بار بار سامنے آتی ہے، جہاں وہ بار بار بیداری پیدا کرنے کا موجب ہوتی ہے وہاں بعض دفعہ وہ اپنی کثرت کی وجہ سے غفلت کا موجب بھی ہو جاتی ہے۔پس میں نہیں سمجھتا کہ نوجوانوں میں نئی نصائح کے متعلق کیا کیفیت پیدا ہوئی ہے کیونکہ میں اس حقیقت سے ناواقف ہوں کہ میری پہلی نصائح نے کیا اثر کیا تھا۔بہر حال نتیجہ کا پیدا نہ ہو نا جہاں ایک صحیح رائے قائم کرنے سے انسان کو محروم کر دیتا ہے وہاں اس بات کا کافی موجب نہیں ہو تاکہ نصائح کے سلسلہ کو ترک کر دیا جائے۔اس لئے میں نئے سال کے لئے جماعت کے نوجوانوں کو اختصار کے ساتھ چند امور کی طرف توجہ دلا دیتا ہوں۔جو نصائح کی جاسکتی ہیں وہ تو سینکڑوں بلکہ ہزاروں کی تعداد میں ہوں گی اور پھر وہ مختلف حالات میں بدلتی بھی رہتی ہیں مگر اس زمانہ میں سب سے بڑی ضرورت سچائی کی ہے۔انبیاء نے اس پر خاص زور دیا ہے اور انسانی اخلاق کا یہ ایک بنیادی حصہ ہے۔سچائی اور راستی پر کوئی ایسا وقت نہیں آیا جب اس کی ضرورت نہ سمجھی گئی ہو