مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 599 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 599

599 مردوں کی طرح کھڑے ہوئے۔ان کو دیکھ کر یہ ظاہر نہیں ہو تا تھا کہ وہ کسی تربیتی کیمپ میں رہ چکے ہیں بلکہ یوں معلوم ہو تا تھا جیسے وہ کسی مسجد کے ملاں کے شاگردوں میں سے ہیں۔مولوی محمد صدیق صاحب نے اپنی رپورٹ میں ذکر کیا ہے کہ اکثر مجالس سے نمائندگان نہیں آئے۔جہاں تک انسانی نفس کا تعلق ہے نئی بات لوگ آہستہ آہستہ اختیار کرتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ کے لوگ آج کل کے لوگوں سے تقویٰ میں بہت بڑھے ہوئے تھے لیکن جب آپ نے یہ اعلان فرمایا کہ ہر احمدی ہر تین ماہ کے بعد ایک پائی فی روپیہ کے حساب سے چندہ دے تو بعض دوستوں نے یہ کہا کہ اس طرح تو احمدیت میں داخل ہونے میں مشکل پیدا ہو جائے گی۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ کئی لوگ ایسے بھی تھے جو ایک پائی فی روپیہ فی سہ ماہی سے کئی گنا زیادہ چندہ دیتے تھے مگر اس شرح کے مقرر ہو جانے سے بعض نے خیال کر لیا کہ اس طرح احمدیت قبول کرنے میں لوگ ہچکچاہٹ محسوس کریں گے لیکن اب کئی لوگ ایسے ہیں جو اپنی آمد کا تیس چالیس فی صدی چندہ دیتے ہیں حالانکہ ان میں سے بعض ایمان میں اتنے پختہ نہیں جتنے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے۔۔۔ایمان میں پختہ تھے لیکن اس زمانہ میں لوگ ایک پائی فی روپیہ فی سہ ماہی شرح چنده مقرر ہونے سے گھبراتے تھے۔پس ابتداء میں ہمیشہ دقتیں پیش آتی ہیں لیکن جب کام چلے گا خدام میں اس کی اہمیت پیدا ہوتی چلی جائے گی۔بڑی بات یہ ہے کہ کورس میں شامل ہونے والوں کو چاہئے کہ وہ اپنی اپنی جگہ پر خدام کی تنظیم کریں۔میں سمجھتا ہوں کہ ابھی خدام کی دس فی صدی تنظیم ہوئی ہے۔نوے فی صدی تنظیم ابھی باقی ہے۔آپ کو چاہئے کہ اپنی اپنی جگہوں پر جا کر خدام کی تنظیم کریں۔اسی طرح ارد گرد کے علاقہ میں پھر پھر کر مجالس میں تحریک کریں کہ اگلے سال اس کو رس میں شامل ہونے کے لئے خدام زیادہ سے زیادہ تعداد میں آئیں۔بعض جگہوں پر مشکلات بھی ہیں۔مثلاً کراچی کی جماعت کے اکثر خدام ملازمت پیشہ ہیں اس لئے انہیں چھٹیاں ملنی مشکل ہوں گی لیکن یہ ہو سکتا ہے کہ سال میں دو تین خدام اس کو رس میں شامل ہو جائیں اور وہاں جا کر باقی خدام کو ٹریننگ دیں کیونکہ اس انتظام کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ جو خدام اس تربیتی کورس میں شامل ہوں وہ واپس جا کر دو سرے خدام کو ٹریننگ دیں۔یاد رکھیں کہ اس کو رس سے ہمارا یہ مقصد نہیں تھا کہ ہم تمیں چالیس خدام کو ٹرینڈ کریں یا ہمیں صرف تمیں چالیس خدام کی ضرورت ہے بلکہ ہمارا مقصد یہ تھا کہ جس خادم کو اس کے لئے بلایا جائے وہ آگے دوسروں کو سکھائے اور کوشش کرے کہ آئندہ سال زیادہ خدام اس کو رس میں حصہ لیں۔آپ میں سے ہر ایک خادم دو چار پانچ چھ اور خدام کو ٹریننگ دے۔اسی طرح وہ خدام آگے اور خدام کو ٹریننگ دیں۔اس طرح پچاس خدام کو تربیت دینے کی وجہ سے ہزاروں تک یہ تربیت پہنچ جائے گی۔میں نے اساتذہ سے کہا تھا کہ اس کو رس میں موٹی موٹی باتیں سکھائی جائیں۔پیچیدگیوں میں نہ پڑا جائے۔