مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 593 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 593

593 خدام الاحمدیہ کو بعض اہم ہدایات انعامات کی تقسیم کے متعلق میں ایک بات کہنا چاہتا ہوں۔چاہئے تھا انعامات کے بارے میں ہدایات کہ نوجوانوں کی ایسے رنگ میں تربیت کی جاتی کہ انہیں معلوم ہو تاکہ اس موقعہ پر انہیں کس طرح کام کرنا چاہئے۔جب کسی نوجوان کو انعام دیا جاتا ہے تو اس کی غرض یہ ہوتی ہے کہ دوسرے نوجوانوں کے دلوں میں بھی تحریک پیدا ہو کہ وہ بھی ویسے ہی کام کریں اور دوسروں کے دلوں میں تحریک کا ثبوت اس طرح مل سکتا ہے کہ وہ اس میں دلچسپی لیں۔یوں تو انعام دینے والا دوسروں کے لئے دل میں بھی دعا کر سکتا ہے مگر میں نے جو طریق جاری کیا تھا کہ دوسرے باركَ اللهُ لكَ فِیهِ کہیں تو اس کی غرض یہ تھی کہ دوسروں کے دل میں ایسے کاموں کی رغبت پیدا ہو مگر انعامات کی تقسیم کے وقت باقی سب لوگ خاموش رہے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ میری یہ ہدایت انہیں فراموش ہو چکی ہے۔ان کا فرض تھا کہ جب کسی کو انعام ملتاتو وہ بلند آواز سے بَارَكَ اللهُ لَكَ فِيهِ کہتے۔دوسری عجیب بات میں نے یہ دیکھی ہے کہ انعام لینے والوں کو بھی یہ معلوم نہیں کہ انہیں کیا کہنا چاہئے۔ان میں سے بھی بعض نے باركَ الله لك فيه کہ دیا حالانکہ انعام دینے والا کہتا ہے بارك الله لك فيه۔خدا تجھے برکت دے اور اس انعام کو تیرے لئے فائدہ بخش بنائے اور یہ انعام تیری آئندہ ترقیات کا پیش خیمہ ہو اور انعام لینے والا کہتا ہے جزاکم اللہ کیونکہ انعام دینے والے نے اسے انعام بھی دیا اور دعا بھی دی۔پس یہ اس کے شکریہ میں دعا کرتا ہے کہ اللہ تعالی تجھے اس نیکی کی جزا عطا فرمائے۔اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے شریعت نے یہ سکھایا ہے کہ جب کوئی شخص کھانا کھائے تو فارغ ہونے پر کہے کہ الحمد للہ۔اب یہ عقل کے بالکل خلاف بات ہو گی اگر کھانا کھلانے والا الحمدللہ کہے اور کھانا کھانے والا خاموش رہے۔پس انعام دینے والے کے لئے مناسب فقرہ یہ ہے کہ بارک اللہ لک فیہ اور انعام لینے والے کے لئے مناسب فقرہ یہ ہے کہ جزاکم اللہ یعنی جنہوں نے انعام دیا ہے اللہ تعالٰی ان کی اس نیکی کو قبول کرے اور انہیں اس کا نیک بدلہ دے۔پس آئندہ کے لئے یاد رکھو کہ جب انعام دینے والا بارک اللہ لک فیہ کے تو دوسرے بھی یہی فقرہ زور سے کہیں تا انعام لینے والے کو محسوس ہو کہ سب نے اس کے کام کو پسند کیا ہے اور وہ بھی اس کی خوشی میں شریک ہیں اور لینے والا جزاکم اللہ کہے تا اس کے دل میں شکر گزاری کا مادہ پیدا ہو۔اب میں آپ لوگوں کو چند فقرات کہنے کے بعد دعا کے ساتھ رخصت کرتا ہوں۔