مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 588
588 تحریک جدید کے دفتر دوم کی مضبوطی کا کام حضرت مصلح موعود نے مجلس خدام الاحمدیہ کے سپرد کیا ہوا ہے۔اس غرض کے لئے مجلس خدام الاحمدیہ کی مجلس شوری منعقدہ سالانہ اجتماع ۱۹۵۰ء کے ایجنڈے میں ایک تجویز بھی رکھی گئی تھی۔اس تجویز پر حضرت۔۔۔۔۔) نے نمائندگان شوری کو مخاطب کرتے ہوئے جو تقریر فرمائی تھی، پہلی مرتبہ رسالہ خالد نومبر ۱۹۶۵ء میں شائع ہوئی تھی۔اس تقریر کا آخری حصہ نامکمل ہے۔بہر حال جس قدر حصہ مل سکا اسی شکل میں اسے شائع کیا جارہا ہے۔(مرتب) پانچویں مجلس شوری خدام الاحمدیہ مرکز یہ منعقده ۲۳ اکتوبر ۱۹۵۰ء مجلس خدام الاحمدیہ کے ایجنڈے میں دوسری تجویز یہ تھی کہ :۔" تحریک جدید دفتر دوم کی مضبوطی کا کام سید نا حضرت۔۔۔) نے خدام الاحمدیہ کے سپرد فرمایا ہے اور فرمایا ہے کہ وعدوں کو کم از کم تین لاکھ تک پہنچایا جائے۔اس وقت صورت حال یہ ہے کہ ایک لاکھ تھیں ہزار کے وعدے ہیں اور صرف تینتالیس ہزار روپے کی نقد وصولی ہے۔گزشتہ سال کے وعدوں کا بقایا جو کئی لاکھ روپے ہے اس کے علاوہ ہے۔اس بارہ میں مجالس مشورہ دیں کہ حضرت اقدس کے ارشاد کی بہتر سے بہتر رنگ میں کس طرح تعمیل کی جاسکتی ہے اور وعدوں کی وصولی کے لئے کیا ذرائع اختیار کیے جائیں جس سے تمام کے تمام وعدے وصول ہو جائیں"۔حضرت مصلح موعود نے اس تجویز کے متعلق نمائندگان کے سامنے تقریر کرتے ہوئے فرمایا:۔اس سال تین لاکھ کی تحریک میں سے ایک لاکھ تیس ہزار روپیہ کے وعدے ہوئے ہیں اور صرف اڑتالیس ہزار روپے کی نقد وصولی ہوئی ہے۔پچھلے سال نقد وصولی چھیالیس ہزار روپیہ تھی اور اس سال کی نقد وصولی اڑتالیس ہزار روپیہ ہے۔گویا خدام الاحمدیہ کی کوشش سے جو جماعت کا تیس فی صدی میں صرف دو ہزار روپیہ کی نقد وصولی ہوئی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ ضروریات بڑھ رہی ہیں اور بیرونی ممالک میں زیادہ سے زیادہ مشن قائم کرنے کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے اور کچھ علاقے ایسے بھی ہیں جہاں احمدیت خود بخود پھیل رہی ہے۔مثلاً امریکہ اور آسٹریلیا کے درمیان جزائر فجی اور ڈچ گی آنا کے علاقے ہیں۔وہاں لوگ اتنی کثرت سے احمدیت کی طرف متوجہ ہیں کہ بعض اخباروں اور کتابوں سے شبہ پڑ جاتا ہے کہ وہاں احمدی زیادہ ہیں یا غیر احمدی۔۔۔۔اس علاقہ کی اہمیت اس سے ظاہر ہے کہ اس کے ایک طرف امریکہ ہے اور ایک طرف جاپان۔۔۔پس ہمارا کام وسیع سے وسیع تر ہو گیا ہے لیکن حال یہ ہے کہ اخراجات کی کمی کی وجہ سے تبلیغ پر زور نہیں دیا جاسکتا۔مغربی افریقہ کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ وہاں پنجاب کے بعد ہماری سب سے بڑی جماعت ہے جو ایک لاکھ کی تعداد میں ہے۔وہاں پر پاکستانی اور مقامی بیسیوں مبلغ کام کر رہے ہیں۔بیسیوں مشن اور سکول ہیں اور