مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 579 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 579

579 اقرار کرو کہ تم ہمیشہ سچ بولو گے ۲۲ اکتوبر ۱۹۵۰ء کو سالانہ اجتماع کے موقعہ پر صبح دس بجے حضور نے خدام سے خطاب فرماتے ہوئے یہ نصائح فرمائیں۔(مرتب) ” دوسری بات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ بعض دفعہ خدام سے عہد لینا پڑتا ہے لیکن ابھی تک میرے سامنے کوئی ایسا طریق نہیں لایا گیا کہ وہ عہد کیسے لیا جائے۔اس کے لئے ضروری ہے کہ کوئی نہ کوئی لفظ ایسا تجویز کیا جائے کہ جب عہد لیا جائے تو خدام اسے دہرا سکیں۔دنیا کے تجربہ سے معلوم ہو تا ہے کہ عہد کے الفاظ میں خاص شان ہونی چاہئے۔عہد میں ہمیشہ ایسے الفاظ استعمال کیے جانے چاہئیں جن کو اونچی آواز میں بولا جا سکے۔مثلا یورپ میں جب ایسا کیا جاتا ہے تو وہ اے (AYE) کہتے ہیں لیس (YES) نہیں کہتے کیونکہ لیس (YES) پورے زور سے ادا نہیں ہوتی اور اے (AYE) میں زور آجاتا ہے۔ہمار نے ملک میں "ہاں" کا لفظ ہے لیکن اس لفظ کا استعمال مہذب نہیں سمجھا جاتا۔مہذب لوگ اس کی جگہ "جی " کا لفظ استعمال کرنے لگ گئے ہیں لیکن "جی " اپنے اندر کوئی شان نہیں رکھتا بلکہ اس میں لجاجت والا رنگ پایا جاتا ہے۔عربی میں ایک لفظ ہے جس سے "اے" نکلا ہے اور وہ لفظ "امی" ہے۔"ائی" کو ایسا زوردار سمجھا جاتا ہے کہ عرب کہتے ہیں "ای واللہ " ہاں خداتعالی کی قسم۔عرب لوگ " نعم " بھی کہیں گے لیکن نعم کے بعد قسم کا لفظ لگانا پسند نہیں کیا جاتا۔لیکن "ای" کے بعد مرج ہے کہ قسم کا لفظ لگایا جائے۔جب کوئی عرب "ائی" لکھے گا تو عام حالات میں اس سے امید کی جائے گی کہ وہ اس کے بعد "و الله" کے یعنی خدا کی قسم۔پس میں تجوید میخرتا ہوں کہ جب کوئی عہد لیا جائے تو خدام بلند آواز سے کہیں رائی" اور پھر عام آواز میں "وَاللهِ" کہیں۔واللہ" کا لفظ اونچی آواز میں کہنے کی ضرورت نہیں۔اب میں تم سے اسی سلسلہ میں ایک عہد لیتا ہوں۔میں نے قاعدہ بتا دیا ہے۔اس کے مطابق تم وہی الفاظ دہراتے جاؤ یعنی پہلے تم زور دار الفاظ میں ایک دفعہ "ائی کھو گے پھر ذرا کم آواز میں "واللہ" کہو گے۔گویا اس کے یہ معنے ہوں گے کہ میں ایسا عہد کرتا ہوں یہ خدا کی قسم "۔میں نے جیسا کہ کل بیان کیا تھا اسلام کی جان یا مذہب کی جان یا انسانیت کی جان بچ ہو تا ہے۔جو شخص سچ نہیں بولتا وہ قوم کو تباہ کرنے والا ہوتا ہے۔جب تک ہم سچائی کو قائم نہیں کریں گے ہم دنیا میں کامیابی حاصل کرنے کی کوئی بڑی امید نہیں کر سکتے۔مثلا تم اپنی زندگی وقف کرتے ہو۔اب اگر تم سچ بولتے ہو تو دین کے لئے جان کی بھی ضرورت پڑی تو تم اپنی جان دے دو گے یا